الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن النسائي / كتاب الحج / الحديث 2813
سنن النسائي
الحديث 2813 — كتاب الحج
الكتاب 24 · The Book of Hajj
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ وُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانُوا يُرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ، فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الأَرْضِ وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرَ وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الْوَبَرْ وَانْسَلَخَ صَفَرْ - أَوْ قَالَ دَخَلَ صَفَرْ - فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ فَقَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الْحِلِّ قَالَ " الْحِلُّ كُلُّهُ " .
صحيح · Abu Ghuddahصحيح · Al-AlbaniSahih - Agreed Upon · Zubair Ali Zai
سنن النسائي › كتاب الحج › الحديث 2813
الترجمة الإنجليزية
It was narrated that Ibn Abbas said:"They used to think that performing 'Umrah during the months of Hajj was one of the worst of evil actions on Earth, and they used to call Muharram 'Safar,' and say: 'When the sore on the backs of the camels have healed and when their hair grows back and when Safar is over' - or he said: 'When Safar beings - then 'Umrah becomes permissible for whoever wants to do it.' Then the Prophet and his companions came on the morning of the fourth of Dhul-Hijjah, reciting the Talbiyah for Hajj, He told them to make it 'Umrah, and they found it too difficult to do that. They said: 'O Messenger of Allah, to what degree should we exit Ihram?' He said: 'Completely
الترجمة الأردية
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ۔ ( زمانہ جاہلیت میں ) لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کر لینے کو زمین میں ایک بہت بڑا گناہ تصور کرتے تھے، اور محرم ( کے مہینے ) کو صفر کا ( مہینہ ) بنا لیتے تھے، اور کہتے تھے: جب اونٹ کی پیٹھ کا زخم اچھا ہو جائے، اور اس کے بال بڑھ جائیں اور صفر کا مہینہ گزر جائے یا کہا صفر کا مہینہ آ جائے تو عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ حلال ہو گیا چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ذی الحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو ( مکہ میں ) حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ اسے عمرہ بنا لیں، تو انہیں یہ بات بڑی گراں لگی ۱؎، چنانچہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون کون سی چیزیں حلال ہوں گی؟ تو آپ نے فرمایا: ”احرام سے جتنی بھی چیزیں حرام ہوئی تھیں وہ ساری چیزیں حلال ہو جائیں گی“۔