العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن النسائي / كتاب الزكاة / الحديث 2549

سنن النسائي

الحديث 2549 — كتاب الزكاة

الكتاب 23 · The Book of Zakah

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ كُنَّا يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسًا وَنَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فَأَرْسَلْنَا رَجُلاً إِلَى عَائِشَةَ لِيَسْتَأْذِنَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ سَائِلٌ مَرَّةً وَعِنْدِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرْتُ لَهُ بِشَىْءٍ ثُمَّ دَعَوْتُ بِهِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا تُرِيدِينَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ بَيْتَكِ شَىْءٌ وَلاَ يَخْرُجَ إِلاَّ بِعِلْمِكِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَهْلاً يَا عَائِشَةُ لاَ تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ ‏"‏ ‏.‏
حسن · Abu Ghuddahحسن · Al-AlbaniIsnaad Hasan · Zubair Ali Zai

سنن النسائي › كتاب الزكاة › الحديث 2549

الترجمة الإنجليزية
It was narrated that Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said:"One day we were sitting in the Masjid with a group of the Muhajirin and Ansar, We sent a man to 'Aishah to ask permission to come to her. She said: 'A beggar came in to me one day when the Messenger of Allah was present, and I ordered that he be given something, then I called for it and looked at it. The Messenger of Allah said: Do you want that nothing should enter or leave your house without your knowledge? I said: 'Yes.' He said: "Don't be hasty, O 'Aishah. Do not count what you give, otherwise Allah will count what He gives to you
الترجمة الأردية
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ کچھ مہاجرین و انصار بھی تھے، ہم نے ایک شخص کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے لیے بھیجا، ( انہوں نے اجازت دے دی، ہم ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا: ایک بار میرے پاس ایک مانگنے والا آیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے ( خادمہ کو ) اسے کچھ دینے کا حکم دیا، پھر میں نے اسے بلایا اسے دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ چاہتی ہیں کہ بغیر آپ کے علم میں آئے تمہارے گھر میں کچھ نہ آئے اور تمہارے گھر سے کچھ نہ جائے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! ٹھہر جاؤ، گن کر نہ دو کہ اللہ عزوجل بھی تمہیں بھی گن کر دے“۔
‹ السابق115 / 184التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا