الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن النسائي / كتاب الزكاة / الحديث 2440
سنن النسائي
الحديث 2440 — كتاب الزكاة
الكتاب 23 · The Book of Zakah
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَلَمَّا رَآنِي مُقْبِلاً قَالَ " هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . فَقُلْتُ مَا لِي لَعَلِّي أُنْزِلَ فِيَّ شَىْءٌ قُلْتُ مَنْ هُمْ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ " الأَكْثَرُونَ أَمْوَالاً إِلاَّ مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا حَتَّى بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ " . ثُمَّ قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يَمُوتُ رَجُلٌ فَيَدَعُ إِبِلاً أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ أُولاَهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " .
صحيح · Abu Ghuddahصحيح · Al-AlbaniSahih - Agreed Upon · Zubair Ali Zai
سنن النسائي › كتاب الزكاة › الحديث 2440
الترجمة الإنجليزية
It was narrated that Abu Dharr said:"I come to the Prophet while he was sitting in the shade of the Ka'bah. When he saw me coming he said: 'They are the losers, by the Lord of the Ka'bah!' I said: 'what's happening? Perhaps something has been revealed concerning me.' I said: 'Who are they, may my father said mother be ransomed for you?' He said: "those who have a lot of wealth, except one who does like this, and like this, and like this,' (motioning) in front of him, and to his right, and to his left. Then he said: 'By the One in Whose hand is my soul, no man dies leaving camels, or cattle, or sheep on which he did not pay the Zakah, but they will come on the Day of Resurrection as big and fat as they ever were, trampling him with their hooves and goring him with their horns. Every time the last of them runs over him, the first of them will come back, until judgment is passed among the people
الترجمة الأردية
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ خانہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے، جب آپ نے ہمیں آتے دیکھا تو فرمایا: ”وہ بہت خسارے والے لوگ ہیں، رب کعبہ کی قسم“! میں نے ( اپنے جی میں ) کہا: کیا بات ہے؟ شاید میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے، میں نے عرض کیا: کون لوگ ہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”بہت مال والے، مگر جو اس طرح کرے، اس طرح کرے“ یہاں تک کہ آپ اپنے سامنے، اپنے دائیں، اور اپنے بائیں دونوں ہاتھ سے اشارہ کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص کوئی اونٹ یا بیل چھوڑ کر مرے گا جس کی اس نے زکاۃ نہ دی ہو گی تو وہ ( اونٹ یا بیل ) ( دنیا میں ) جیسا کچھ وہ تھا قیامت کے دن اس سے بڑا اور موٹا تازہ ہو کر اس کے سامنے آئے گا، اور اسے اپنے کھروں سے روندے گا اور سینگوں سے مارے گا، جب آخری جانور روند اور مار چکے گا تو پھر ان کا پہلا لوٹا دیا جائے گا، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے“۔