الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن النسائي / كتاب الصيام / الحديث 2185
سنن النسائي
الحديث 2185 — كتاب الصيام
الكتاب 22 · The Book of Fasting
أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةَ الضُّحَى قَالَتْ لاَ إِلاَّ أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ . قُلْتُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُ صَوْمٌ مَعْلُومٌ سِوَى رَمَضَانَ قَالَتْ وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ وَلاَ أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ .
صحيح · Abu Ghuddahصحيح · Al-AlbaniSahih Muslim · Zubair Ali Zai
سنن النسائي › كتاب الصيام › الحديث 2185
الترجمة الإنجليزية
It was narrated that 'Abdullah bin Shaqiq said:'I said to Aishah: 'did the Messenger of Allah offer Duah prayer?' she said: 'No, unless he was returning from a journey.' I said: 'was the Messenger of Allah known to observe any fast regularly apart from Ramadan?'' She said: 'by Allah, he did not observe any fast regularly apart from amadan until he passed away, and he did not break his fast for a whole month, rather he would fast some of it (each month)
الترجمة الأردية
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے ( لوٹ کر ) آتے، پھر میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان کے علاوہ کوئی متعین روزہ تھا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم آپ نے سوائے رمضان کے کسی خاص مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ آپ نے وفات پا لی، اور نہ ہی پورے ماہ بغیر روزے کے رہے، کچھ نہ کچھ روزے اس میں ضرور رکھتے۔