الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن النسائي / كتاب الجنائز / الحديث 2022
سنن النسائي
الحديث 2022 — كتاب الجنائز
الكتاب 21 · The Book of Funerals
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَمِّهِ، يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ، فَرَأَى قَبْرًا جَدِيدًا فَقَالَ : " مَا هَذَا " . قَالُوا : هَذِهِ فُلاَنَةُ مَوْلاَةُ بَنِي فُلاَنٍ، فَعَرَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَاتَتْ ظُهْرًا وَأَنْتَ نَائِمٌ قَائِلٌ، فَلَمْ نُحِبَّ أَنْ نُوقِظَكَ بِهَا . فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا ثُمَّ قَالَ : " لاَ يَمُوتُ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلاَّ آذَنْتُمُونِي بِهِ، فَإِنَّ صَلاَتِي لَهُ رَحْمَةٌ " .
صحيح · Abu Ghuddahصحيح · Al-AlbaniIsnaad Sahih · Zubair Ali Zai
سنن النسائي › كتاب الجنائز › الحديث 2022
الترجمة الإنجليزية
It was narrated from Yazid bin Thabit that:they went out with the Messenger of Allah one day and he saw a new grave. He said: "What is this?" They said: "This is so-and-so, the freed slave woman of Banu so-and-so" - whom Messenger of Allah knew - "She died at midday and we did not like to wake you up when you were fasting and taking a nap." The Messenger of Allah stood (for prayer) and the people formed rows behind him. He said four Takbirs over her then he said: "If anyone among you dies while I am still among you, inform me, for my prayer for his is a mercy
الترجمة الأردية
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو آپ نے ایک نئی قبر دیکھی تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ فلاں قبیلے کی لونڈی ( کی قبر ) ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا، وہ دوپہر میں مری تھی، اور آپ قیلولہ فرما رہے تھے، تو ہم نے آپ کو اس کی وجہ سے جگانا پسند نہیں کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی، اور آپ نے چار تکبیریں کہیں، پھر فرمایا: ”جب تک میں تمہارے درمیان ہوں جو بھی تم میں سے مرے اس کی خبر مجھے ضرور دو، کیونکہ میری نماز اس کے لیے رحمت ہے“۔