الرئيسية / مكتبة الحديث / موطأ مالك / كتاب جماعة الصلاة / الحديث 296
موطأ مالك
الحديث 296 — كتاب جماعة الصلاة
الكتاب 8 · Prayer in Congregation
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ أُدْرِكُ الصَّلاَةَ مَعَ الإِمَامِ أَفَأُصَلِّي مَعَهُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ نَعَمْ . فَقَالَ الرَّجُلُ أَيَّتَهُمَا أَجْعَلُ صَلاَتِي فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ أَوَذَلِكَ إِلَيْكَ إِنَّمَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ يَجْعَلُ أَيَّتَهُمَا شَاءَ .
Mauquf Sahih · Salim al-Hilali
موطأ مالك › كتاب جماعة الصلاة › الحديث 296
الترجمة الإنجليزية
Yahya related to me from Malik from Nafi that a man asked Abdullah ibn Umar, "Sometimes I pray in my house, and then catch the prayer with the imam. Should I pray with him?" Abdullah ibn Umar said to him, "Yes," and the man said, "Which of them do I make my prayer?" Abdullah ibn Umar said, "Is that up to you? It is up to Allah. He will decide on whichever of them He wishes
الترجمة الأردية
نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے کہ میں نماز پڑھ لیتا ہوں اپنے گھر میں پھر پاتا ہوں جماعت کو ساتھ امام کے کیا پھر پڑھوں ساتھ امام کے کہا عبداللہ بن عمر نے ہاں کہا اس شخص نے پس دو نمازوں میں کو نسی نماز کو فرض سمجھوں اور کس کو نفل تو جواب دیا عبداللہ بن عمر نے کہ تجھ کو اس سے کیا مطلب یہ تو اللہ جل جلالہ کا اختیار ہے جس کو چاہے فرض کر دے جس کو چاہے نفل کر دے ۔