Startseite / Hadith-Bibliothek / Jami' al-Tirmidhi / Buch 46: Chapters on Recitation / Hadith 2948
Jami' al-Tirmidhi
Hadith 2948 — Buch 46: Chapters on Recitation
كتاب القراءات
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ " الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ " . قَالَ وَمَا الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ قَالَ " الَّذِي يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِ الْقُرْآنِ إِلَى آخِرِهِ كُلَّمَا حَلَّ ارْتَحَلَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ الرَّبِيعِ .
Daif Isnaad · Al-AlbaniDaif · Zubair Ali Zai
Jami' al-Tirmidhi › Buch 46: Chapters on Recitation › Hadith 2948
Englische Übersetzung
Narrated Ibn 'Abbas:"A man said 'O Messenger of Allah! Which deed is most virtuous to Allah?' He said: 'Al-Hallul-Murtahil'' He said: 'What is Al-Hallul-Murtahil?' He said: 'The one who recites from the beginning of the Qur'an to the end of it, every time he sets out (on a trip)
Urdu-Übersetzung
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: «الحال» اور «المرتحل» ( اترنے اور کوچ کرنے والا ) عمل۔ اس نے کہا: «الحال» اور «المرتحل» ( اترنے اور کوچ کرنے والا ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو قرآن شروع سے لے کر آخر تک پڑھتا ہے، جب بھی وہ اترتا ہے کوچ کر دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ابن عباس رضی الله عنہما کی اس روایت سے جانتے ہیں جو اس سند سے آئی ہے اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔