العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
Deutsch

Startseite / Hadith-Bibliothek / Muwatta Malik / Buch 37: Wills and Testaments / Hadith 1457

Muwatta Malik

Hadith 1457 — Buch 37: Wills and Testaments

كتاب الوصية

وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ غُلاَمًا، مِنْ غَسَّانَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ فُلاَنًا يَمُوتُ أَفَيُوصِي قَالَ فَلْيُوصِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ الْغُلاَمُ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ أَوِ اثْنَتَىْ عَشْرَةَ سَنَةً ‏.‏ قَالَ فَأَوْصَى بِبِئْرِ جُشَمٍ فَبَاعَهَا أَهْلُهَا بِثَلاَثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الضَّعِيفَ فِي عَقْلِهِ وَالسَّفِيهَ وَالْمُصَابَ الَّذِي يُفِيقُ أَحْيَانًا تَجُوزُ وَصَايَاهُمْ إِذَا كَانَ مَعَهُمْ مِنْ عُقُولِهِمْ مَا يَعْرِفُونَ مَا يُوصُونَ بِهِ فَأَمَّا مَنْ لَيْسَ مَعَهُ مِنْ عَقْلِهِ مَا يَعْرِفُ بِذَلِكَ مَا يُوصِي بِهِ وَكَانَ مَغْلُوبًا عَلَى عَقْلِهِ فَلاَ وَصِيَّةَ لَهُ ‏.‏
Mauquf Daif · Salim al-Hilali

Muwatta Malik › Buch 37: Wills and Testaments › Hadith 1457

Englische Übersetzung
Malik related to me from Yahya ibn Said from Abu Bakr ibn Hazm that a boy from Ghassan was dying in Madina while his heir was in Syria. That was mentioned to Umar ibn al-Khattab. It was said to him, "So-and-so is dying. Shall he make a bequest?" He said, "Let him make a bequest." Yahya ibn Said said that Abu Bakr had said, "He was a boy of ten or twelve years." Yahya said, "He willed the well of Jusham, and his people sold it for 30,000 dirhams." Yahya said that he heard Malik say, "The generally agreed-on way of doing things in our community is that a simpleton, an idiot, or a lunatic who recovers at times, can make wills if they have enough of their wits about them to recognise what they will. Someone who has not enough wits to recognise what he wills, and is overcome in his intellect, cannot make a bequest
Urdu-Übersetzung
عمرو بن سلیم زرقی سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب سے کہا گیا کہ اس جگہ مدینہ میں ایک لڑکا ہے قریب بلوغ کے مگر بالغ نہیں ہوا قبیلہ غسان سے اور اس کے وارث شام میں ہیں اور اس کے پاس مال ہے اور یہاں اس کا کوئی وارث نہیں سوائے ایک چچا زاد بہن کے تو حضرت عمر نے کہا اس کو وصیت کرے اس لڑکے نے مال کی وصیت جس کا نام بیر جشم تھا اپنی چچا زاد بہن کے واسطے کی عمرو بن سلیم نے کہا وہ مال تیس ہزار درہم کا بکا اور اس کی چچا زاد بہن عمرو بن سلیم کی ماں تھی ۔ ابوبکر بن حزم سے روایت ہے کہ ایک لڑکا غسان کا مرنے لگا مدینہ میں اور وارث اس کے شام میں تھے حضرت عمر سے اس کا ذکر ہوا اور پوچھا گیا کیا وصیت کرے آپ نے فرمایا وصیت کرے یحیی بن سعید نے کہا وہ لڑکا دس برس کا تھا یا بارہ برس کا اور بیر جشم چھوڑ گیا اس کی وصیت کر گیا لوگوں نے اسے تیس ہزار درہم کا بیچا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ ضعیف العقل اور نادان اور مجنوں کی جس کو کبھی آفاقہ ہوجاتا ہے وصیت درست ہے جب اتنی عقل رکھتے ہوں کہ وصیت جو کریں اس کو سمجھیں اگر اتنی بھی عقل نہ ہو تو اس کی وصیت درست نہیں ہے۔
‹ Zurück3 / 9Weiter ›

Das ganze Buch lesen