العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
Deutsch

Startseite / Hadith-Bibliothek / Muwatta Malik / Buch 29: Divorce / Hadith 1269

Muwatta Malik

Hadith 1269 — Buch 29: Divorce

كتاب الطلاق

وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ، اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا وَهِيَ حَادٌّ عَلَى زَوْجِهَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَلَمْ تَكْتَحِلْ حَتَّى كَادَتْ عَيْنَاهَا تَرْمَصَانِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ تَدَّهِنُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا بِالزَّيْتِ وَالشَّبْرَقِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ طِيبٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ تَلْبَسُ الْمَرْأَةُ الْحَادُّ عَلَى زَوْجِهَا شَيْئًا مِنَ الْحَلْىِ خَاتَمًا وَلاَ خَلْخَالاً وَلاَ غَيْرَ ذَلِكَ مِنَ الْحَلْىِ وَلاَ تَلْبَسُ شَيْئًا مِنَ الْعَصْبِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ عَصْبًا غَلِيظًا وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِشَىْءٍ مِنَ الصِّبْغِ إِلاَّ بِالسَّوَادِ وَلاَ تَمْتَشِطُ إِلاَّ بِالسِّدْرِ وَمَا أَشْبَهَهُ مِمَّا لاَ يَخْتَمِرُ فِي رَأْسِهَا ‏.‏
Maqtu Sahih · Salim al-Hilali

Muwatta Malik › Buch 29: Divorce › Hadith 1269

Englische Übersetzung
Yahya related to me from Malik from Nafic that Saffiyya bint Abi Ubayd suffered from an eye-complaint while she was in mourning for her husband, Abdullah ibn Umar. She did not apply kohl until her eyes almost had ramas (a dry white secretion in the corners of the eye). Malik said, "A woman whose husband has died should anoint her eyes with olive oil and sesame oil and the like of that since there is no perfume in it." Malik said, "A woman in mourning for her husband should not put on any jewellery - rings, anklets, or such- like, neither should she dress in any sort of colourful, striped garment unless it is coarse. She should not wear any cloth dyed with anything except black, and she should only dress her hair with things like lotus-tree leaves which do not dye the hair
Urdu-Übersetzung
صفیہ بنت ابوعبید اپنے خاوند یعنی عبداللہ بن عمر کے سوگ میں تھیں انہوں نے سرمہ نہ لگایا اور ان کی آنکھیں دکھتی تھیں یہاں تک کہ چیپڑ آنے لگا۔ کہا مالک نے جو عورت سوگ میں ہو اپنے خاوند کے اور وہ زیور قسم سے کچھ نہ پہنے نہ انگوٹھی نہ پائے زیب نہ اور زیوہ نہ یمن کا کپڑا مگر جب موٹا اور سخت ہو نہ رنگا ہو کپڑا مگر سیاہ نہ کنگھی کرے نہ کھلی ڈالے مگر بیری وغیرہ کے پتوں سے بالوں کو دھو سکت ہے یا اور کسی چیز سے جس میں خوشبو نہ ہو مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور وہ اپنے خاوند ابوسلمہ کے سوگ میں تھیں انہوں نے اپنی آنکھوں پر ایلوا لگایا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے پوچھا اے ام سلمہ؟ یہ کیا لگایا انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ایلوا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کو لگایا کر اور دن کو پونچھ ڈالا کر ۔ کہا مالک نے اگر عورت نابالغ ہو اس کو حیض نہ آتا ہو وہ بالغہ کی طرح ہے جب اس کا خاوند مر جائے تو سوگ کرے اور جن امور سے بالغہ کو پرہیز کرنا لازم ہے ان سے بھی پرہیز کرے ۔ کہا مالک نے جب لونڈی کا خاوند مر جائے وہ دو مہینے پانچ دن تک سوگ کرے۔ کہا امام مالک نے جب ام ولد کا مولیٰ مر جائے تو وہ سوگ نہ کرے کیونکہ سوگ ان عورتوں پر لازم ہے جو خاوند والیاں ہوں ۔ حضرت بی بی ام سلمہ فرماتی تھیں جو عورت سوگ میں ہو وہ اپنے سر کو بیری کے پتے سے دھو سکتی ہے اور زیتون کا تیل ڈال سکتی ہے ۔
‹ Zurück116 / 118Weiter ›

Das ganze Buch lesen