العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
Deutsch

Startseite / Hadith-Bibliothek / Sunan Abu Dawud / Buch 9: Zakat (Kitab Al-Zakat) / Hadith 1571

Sunan Abu Dawud

Hadith 1571 — Buch 9: Zakat (Kitab Al-Zakat)

كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ قَالَ مَالِكٌ وَقَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ ‏.‏ هُوَ أَنْ يَكُونَ لِكُلِّ رَجُلٍ أَرْبَعُونَ شَاةً فَإِذَا أَظَلَّهُمُ الْمُصَدِّقُ جَمَعُوهَا لِئَلاَّ يَكُونَ فِيهَا إِلاَّ شَاةٌ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ ‏.‏ أَنَّ الْخَلِيطَيْنِ إِذَا كَانَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةُ شَاةٍ وَشَاةٌ فَيَكُونُ عَلَيْهِمَا فِيهَا ثَلاَثُ شِيَاهٍ فَإِذَا أَظَلَّهُمَا الْمُصَدِّقُ فَرَّقَا غَنَمَهُمَا فَلَمْ يَكُنْ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلاَّ شَاةٌ فَهَذَا الَّذِي سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ ‏.‏
Sahih Maqtu · Al-AlbaniSahih Maqtu · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidIsnaad Sahih · Zubair Ali Zai

Sunan Abu Dawud › Buch 9: Zakat (Kitab Al-Zakat) › Hadith 1571

Englische Übersetzung
Narrated Malik:The statement of Umar bin Al Khattab “Those which are in separate flocks are not to be brought together and those which are in one flock are not to be separated” means Two persons had forty goats each ; when the collector came they brought them together in one flock so that only one goat could be given. The phrase “those which are in one flock are not to be separated” means If two partners possessed one hundred and one goats each, three goats were to be given by each of them. When the collector came they separated their goats. Thus only one goat was to be given by each of them. This is what I heard on this subject
Urdu-Übersetzung
عبداللہ بن مسلمہ کہتے ہیں کہ مالک نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قول جدا جدا مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور نہ اکٹھے مال کو جدا کیا جائے گا کا مطلب یہ ہے: مثلاً ہر ایک کی چالیس چالیس بکریاں ہوں، جب مصدق ان کے پاس زکاۃ وصول کرنے آئے تو وہ سب اپنی بکریوں کو ایک جگہ کر دیں تاکہ ایک ہی شخص کی تمام بکریاں سمجھ کر ایک بکری زکاۃ میں لے، اکٹھا مال جدا نہ کئے جانے کا مطلب یہ ہے: دو ساجھے دار ہوں اور ہر ایک کی ایک سو ایک بکریاں ہوں ( دونوں کی ملا کر دو سو دو ) تو دونوں کو ملا کر تین بکریاں زکاۃ کی ہوتی ہیں، لیکن جب زکاۃ وصول کرنے والا آتا ہے تو دونوں اپنی اپنی بکریاں الگ کر لیتے ہیں، اس طرح ہر ایک پر ایک ہی بکری لازم ہوتی ہے، یہ ہے وہ چیز جو میں نے اس سلسلے میں سنی ہے۔
‹ Zurück16 / 145Weiter ›

Das ganze Buch lesen