العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
Deutsch

Startseite / Hadith-Bibliothek / Sunan Abu Dawud / Buch 20: Tribute, Spoils, and Rulership (Kitab Al-Kharaj, Wal-Fai' Wal-Imarah) / Hadith 3088

Sunan Abu Dawud

Hadith 3088 — Buch 20: Tribute, Spoils, and Rulership (Kitab Al-Kharaj, Wal-Fai' Wal-Imarah)

كتاب الخراج والإمرة والفيء

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ حِينَ خَرَجْنَا مَعَهُ إِلَى الطَّائِفِ فَمَرَرْنَا بِقَبْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ وَكَانَ بِهَذَا الْحَرَمِ يَدْفَعُ عَنْهُ فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَتْهُ النِّقْمَةُ الَّتِي أَصَابَتْ قَوْمَهُ بِهَذَا الْمَكَانِ فَدُفِنَ فِيهِ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ دُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ إِنْ أَنْتُمْ نَبَشْتُمْ عَنْهُ أَصَبْتُمُوهُ مَعَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ ‏.‏
Daif · Al-AlbaniDaif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidDaif · Shuaib Al ArnautDaif · Zubair Ali Zai

Sunan Abu Dawud › Buch 20: Tribute, Spoils, and Rulership (Kitab Al-Kharaj, Wal-Fai' Wal-Imarah) › Hadith 3088

Englische Übersetzung
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: When we went out along with the Messenger of Allah (ﷺ) to at-Ta'if we passed a grave. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: This is the grave of AbuRighal. He was in this sacred mosque (sanctuary) protecting himself (from punishment). When he came out, he suffered the same punishment which his people suffered at this place, and he was buried in it. The sign of it is that a golden bough was buried with him. If you dig it out, you will find it with him. The people hastened to it and took out the bough
Urdu-Übersetzung
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کی طرف نکلے تو راستے میں ہمارا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: یہ ابورغال ۱؎ کی قبر ہے عذاب سے بچے رہنے کے خیال سے حرم میں رہتا تھا ۲؎ لیکن جب ( ایک مدت کے بعد ) وہ ( حدود حرم سے ) باہر نکلا تو وہ بھی اسی عذاب سے دوچار ہوا جس سے اس کی قوم اسی جگہ دوچار ہو چکی تھی ( یعنی زلزلہ کا شکار ہوا ) وہ اسی جگہ دفن کیا گیا، اور اس کی نشانی یہ تھی کہ اس کے ساتھ سونے کی ایک ٹہنی گاڑ دی گئی تھی، اگر تم قبر کو کھودو تو اس کو پا لو گے ، یہ سن کر لوگ دوڑ کر قبر پر گئے اور کھود کر ٹہنی ( سونے کی سلاخ ) نکال لی۔
‹ Zurück161 / 161

Das ganze Buch lesen