中文 English العربية اردو Français Español Deutsch Русский
认识伊斯兰Discover Islam

首页 / 圣训图书馆 / 《马立克穆宛塔》 / 第 13: Asking for Rain / 圣训 452

《马立克穆宛塔》

圣训 452 — 第 13: Asking for Rain

كتاب الاستسقاء

حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ ‏"‏ أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِي فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ ‏"‏ ‏.‏
Sahih · Salim al-Hilali

《马立克穆宛塔》 › 第 13: Asking for Rain › 圣训 452

英文翻译
Yahya related to me from Malik from Salih ibn Kaysan from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud that Zayd ibn Khalid al- Juhani said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, took the subh prayer with us at Hudaybiyya after it had rained in the night. When he had finished he went up to the people and said, 'Do you know what your Lord has said?' They said, 'Allah and His Messenger know best.' He said, 'Some of my slaves have begun the morning believing in Me, and others have begun it rejecting Me. As for those who say, 'We were rained on by the overflowing favour of Allah and His mercy,' they believe in Me and reject the stars. But as for those who say, 'We were rained on by such and such a star, they reject Me and believe in the stars
乌尔都语翻译
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ نماز پڑھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی حدیبیہ میں اور رات کو پانی پڑ چکا تھا تو جب نماز سے فارغ ہوئے متوجہ ہوئے لوگوں کی طرف اور فرمایا کہ تم جانتے ہو جو کہا تمہارے پروردگار نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو معلوم ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، فرمایا اللہ جل جلالہ نے صبح کو میرے بندے دو قسم کے تھے ایک وہ جو ایمان لایا میرے اوپر دوسرے وہ جس نے کفر کیا ساتھ میرے جس شخص نے کہا کہ پانی برسا اللہ کے فضل اور رحمت سے تو وہ میرے اوپر ایمان لایا تاروں پر اعتقاد نہ رکھا اور جو بولا کہ پانی برسا فلاں تارہ کی گردش سے تو اس نے کفر کیا میرے ساتھ اور ایمان لایا تاروں پر ۔ امام مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اٹھے ابر سمندر کی طرف سے پھر شام کی طرف جانے لگے تو جانو کہ ایک چشمہ ہے بھر پور ۔ امام مالک کو پہنچا کہ ابوہریرہ کہتے تھے جب صبح ہوتی تھی اور پانی برس جاتا تھا پانی برسا اللہ کے حکم سے پڑھتے تھے اس آیت کو مایفتح اللہ للناس یعنی اللہ جل جلالہ اگر لوگوں پر رحمت کرنا چاہے تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جو روکنا چاہے تو کوئی چھوڑ نہیں سکتا ۔
‹ 上一条4 / 6下一条 ›

阅读整本书