中文 English العربية اردو Français Español Deutsch Русский
认识伊斯兰Discover Islam

首页 / 圣训图书馆 / 《穆斯林圣训实录》 / 第 0: Introduction / 圣训 6929

《穆斯林圣训实录》

圣训 6929 — 第 0: Introduction

المقدمة

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي، سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ صَفْوَانَ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ - وَكَانَتْ تَحْتَهُ الدَّرْدَاءُ قَالَ قَدِمْتُ الشَّامَ فَأَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَنْزِلِهِ فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ فَقَالَتْ أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَتْ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ دَعْوَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ لأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ كُلَّمَا دَعَا لأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

《穆斯林圣训实录》 › 第 0: Introduction › 圣训 6929

英文翻译
Safwan (and he was Ibn 'Abdullah b. Safwan, and he had been married to Umm Darda') reported:I visited Abu Darda's house in Syria. I did not find him there but Umm Darda' (was present at the house). She said: Do you intend to perform Hajj during this year? I said: Yes. She said: Do supplicate Allah for blessings upon us, for Allah's Apostle (may peace be upon hiin) used to say: The supplication of a Muslim for his brother at his back (in his absence) is responded so long as he makes a supplica- tion for blessings for his brother and the commissioned Angel says: Amen, and says: May it be for you too I I went to the bazar and met Abfi Dardi' and he narrated like this from Allah's Messenger (ﷺ)
乌尔都语翻译
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں عبدالملک بن ابی سلیمان نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن صفوان کے بیٹے صفوان سے روایت کی ، ( حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی بیٹی ) درداء ، ان ( صفوان ) کی زوجیت میں تھی ، وہ کہتے ہیں : اور میں شام آیا تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہاں ان کے گھر گیا ، وہ نہیں ملے ، میں حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے ملا تو انہوں نے کہا : کیا تم اس سال حج کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ انہوں نے کہا : ہمارے لیے خیر کی دعا کرنا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : " مسلمان کی اپنے بھائی کے لیے اس کی پیٹھ پیچھے کی گئی دعا مستجاب ہوتی ہے ، اس کے سر کے قریب ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے ، وہ جب بھی اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو مقرر کیا ہوا فرشتہ اس پر کہتا ہے : آمین ، اور تمہیں بھی اسی کے مانند عطا ہو ۔
‹ 上一条273 / 344下一条 ›

阅读整本书