中文 English العربية اردو Français Español Deutsch Русский
认识伊斯兰Discover Islam

首页 / 圣训图书馆 / 《布哈里圣训实录》 / 第 56: Fighting for the Cause of Allah (Jihaad) / 圣训 2874

《布哈里圣训实录》

圣训 2874 — 第 56: Fighting for the Cause of Allah (Jihaad)

كتاب الجهاد والسير

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عُمَارَةَ وَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لاَ، وَاللَّهِ مَا وَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ وَلَّى سَرَعَانُ النَّاسِ، فَلَقِيَهُمْ هَوَازِنُ بِالنَّبْلِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ‏"‏

《布哈里圣训实录》 › 第 56: Fighting for the Cause of Allah (Jihaad) › 圣训 2874

英文翻译
Narrated Al-Bara:that a man asked him. "O Abu '`Umara! Did you flee on the day (of the battle) of Hunain?" He replied, "No, by Allah, the Prophet (ﷺ) did not flee but the hasty people fled and the people of the Tribe of Hawazin attacked them with arrows, while the Prophet (ﷺ) was riding his white mule and Abu Sufyan bin Al-Harith was holding its reins, and the Prophet (ﷺ) was saying, 'I am the Prophet (ﷺ) in truth, I am the son of `Abdul Muttalib
乌尔都语翻译
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہ ان سے ایک شخص نے پوچھا اے ابوعمارہ! کیا آپ لوگوں نے ( مسلمانوں کے لشکر نے ) حنین کی لڑائی میں پیٹھ پھیر لی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں اللہ گواہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی البتہ جلد باز لوگ ( میدان سے ) بھاگ پڑے تھے ( اور وہ لوٹ میں لگ گئے تھے ) قبیلہ ہوازن نے ان پر تیر برسانے شروع کر دئیے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث اس کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب‏ ‏» میں نبی ہوں جس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں۔ میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔
‹ 上一条90 / 294下一条 ›

阅读整本书