中文 English العربية اردو Français Español Deutsch Русский
认识伊斯兰Discover Islam

首页 / 圣训图书馆 / 《布哈里圣训实录》 / 第 15: Invoking Allah for Rain (Istisqaa) / 圣训 1029

《布哈里圣训实录》

圣训 1029 — 第 15: Invoking Allah for Rain (Istisqaa)

كتاب الاستسقاء

قَالَ أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَدْوِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْمَاشِيَةُ هَلَكَ الْعِيَالُ هَلَكَ النَّاسُ‏.‏ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ يَدْعُو، وَرَفَعَ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ مَعَهُ يَدْعُونَ، قَالَ فَمَا خَرَجْنَا مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى مُطِرْنَا، فَمَا زِلْنَا نُمْطَرُ حَتَّى كَانَتِ الْجُمُعَةُ الأُخْرَى، فَأَتَى الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَشِقَ الْمُسَافِرُ، وَمُنِعَ الطَّرِيقُ‏.‏

《布哈里圣训实录》 › 第 15: Invoking Allah for Rain (Istisqaa) › 圣训 1029

英文翻译
Narrated Anas bin Malik:A bedouin came to Allah's Messenger (ﷺ) on a Friday and said, "O Allah's Messenger ! The livestock, the offspring, and the people have perished." So, Allah's Messenger (ﷺ) raised both his hands invoking Allah (for rain) and the people too raised their hands with Allah's Messenger (ﷺ) invoking Allah (for rain). We had not left the mosque when it started raining. It rained till the next Friday when the same man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger! The travelers are compelled to postpone their journeys (because of excessive rain) and the roads are overflowed
乌尔都语翻译
ایوب بن سلیمان نے کہا کہ مجھ سے ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان بن بلال سے بیان کیا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا کہ ایک بدوی ( گاؤں کا رہنے والا ) جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! بھوک سے مویشی تباہ ہو گئے، اہل و عیال اور تمام لوگ مر رہے ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے، اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھائے، دعا کرنے لگے، انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابھی ہم مسجد سے باہر نکلے بھی نہ تھے کہ بارش شروع ہو گئی اور ایک ہفتہ برابر بارش ہوتی رہی۔ دوسرے جمعہ میں پھر وہی شخص آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! ( بارش بہت ہونے سے ) مسافر گھبرا گئے اور راستے بند ہو گئے۔
‹ 上一条24 / 34下一条 ›

阅读整本书