صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن نسائی / كتاب الجنائز / حدیث 1963
سنن نسائی
حدیث 1963 — كتاب الجنائز
کتاب 21 · The Book of Funerals
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن مرتا اور اس پر قرض ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ”کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ کہتے: ”تم اپنے ساتھی پر نماز ( جنازہ ) پڑھ لو“۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح و نصرت کا دروازہ کھولا، تو آپ نے فرمایا: ”میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں، تو جو وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو ( اس کی ادائیگی ) مجھ پر ہے، اور اگر کوئی مال چھوڑ کر گیا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔
صحیح · Abu Ghuddahصحیح · Al-AlbaniSahih - Agreed Upon · Zubair Ali Zai
سنن نسائی › كتاب الجنائز › حدیث 1963
اصل عربی متن
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ سَأَلَ " هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ " . فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ صَلَّى عَلَيْهِ وَإِنْ قَالُوا لاَ قَالَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَىَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ " .
انگریزی ترجمہ
It was narrated from Abu Hurairah that:if a believer died with debts outstanding, the Messenger of Allah would ask whether he had left behind anything to pay off his debts. If they said yes, he would pray for him, but if they said no, he would say: "Pray for your companion." Then, when Allah made His Messenger rich through conquest, he said: "I am closer to the believers than their own selves. Whoever dies and leaves behind a debt, I will pay it, and whoever leavers behind wealth, it is for his heirs