صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن نسائی / كتاب الجنائز / حدیث 1962
سنن نسائی
حدیث 1962 — كتاب الجنائز
کتاب 21 · The Book of Funerals
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، چنانچہ ایک جنازہ آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ہاں، اس پر دو دینار ( کا قرض ) ہے، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھ لو“، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں دینار میرے ذمہ ہیں، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتح و نصرت عطا کی، تو آپ نے فرمایا: ”میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں، جو قرض چھوڑ کر مرے ( اس کی ادائیگی ) مجھ پر ہے، اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔
صحیح · Abu Ghuddahصحیح · Al-Albaniصحیح · Zubair Ali Zai
سنن نسائی › كتاب الجنائز › حدیث 1962
اصل عربی متن
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقُومِسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَ يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ فَسَأَلَ " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ " . قَالُوا نَعَمْ عَلَيْهِ دِينَارَانِ . قَالَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . قَالَ أَبُو قَتَادَةَ هُمَا عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَصَلَّى عَلَيْهِ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ مَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَىَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ " .
انگریزی ترجمہ
It was narrated that Jabir said:"The Prophet would not pray for a man who owed a debt. A deceased person was brought to him and he said: 'Does he owe any debt?' They said: 'Yes, he owes two Dinars.' He said: 'Pray for your companion.' Abu Qatadah said: 'I will pay them, O Messenger of Alllah, So he prayed for him. Then, when Allah made His Messenger rich though conquest, he said: ' I am closer to each believer than his own self. Whoever leaves behind a debt, I will pay it, and whoever leaves behind wealth, it is for his heirs