صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن ابی داؤد / كتاب الزكاة / حدیث 1600
سنن ابی داؤد
حدیث 1600 — كتاب الزكاة
کتاب 9 · Zakat (Kitab Al-Zakat)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنی متعان کے ایک فرد متعان اپنے شہد کا عشر ( دسواں حصہ ) لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کے ایک سلبہ نامی جنگل کا ٹھیکا طلب کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگل کو ٹھیکے پردے دیا، جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو سفیان بن وہب نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، وہ ان سے اس کے متعلق پوچھ رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ( جواب میں ) لکھا اگر ہلال تم کو اسی قدر دیتے ہیں، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے یعنی اپنے شہد کا دسواں حصہ، تو سلبہ کا ان کا ٹھیکا قائم رکھو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو مکھیاں بھی جنگل کی دوسری مکھیوں کی طرح ہیں، جو چاہے ان کا شہد کھا سکتا ہے۔
حسن · Al-Albaniحسن · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamidحسن · Shuaib Al ArnautIsnaad Hasan · Zubair Ali Zai
سنن ابی داؤد › كتاب الزكاة › حدیث 1600
اصل عربی متن
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَ هِلاَلٌ - أَحَدُ بَنِي مُتْعَانَ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ وَكَانَ سَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ لَهُ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ سَلَبَةُ فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ الْوَادِي فَلَمَّا وُلِّيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَكَتَبَ عُمَرُ رضى الله عنه إِنْ أَدَّى إِلَيْكَ مَا كَانَ يُؤَدِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عُشُورِ نَحْلِهِ لَهُ فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ وَإِلاَّ فَإِنَّمَا هُوَ ذُبَابُ غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ يَشَاءُ .
انگریزی ترجمہ
Amr bin Shu'aib, on his father's authority, said that his grandfather reported:Hilal, a man from the tribe of Banu Mat'an brought a tenth of honey which he possessed in beehives to the Messenger of Allah (ﷺ). He asked him (the apostle of Allah) to give the wood known as Salabah as a protected (or restricted) land. The Messenger of Allah (ﷺ) gave him that wood as a protected land. When Umar ibn al-Khattab succeeded, Sufyan ibn Wahb wrote to Umar asking him about this wood. Umar ibn al-Khattab wrote to him: If he (Hilal) pays you the tithe on honey what he used to pay to the Messenger of Allah (ﷺ), leave the protected land of Salabah in his possession; otherwise those bees are like those of any wood; anyone can take the honey as he likes