العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / جامع ترمذی / كتاب المناقب / حدیث 3918

جامع ترمذی

حدیث 3918 — كتاب المناقب

کتاب 49 · Chapters on Virtues

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی میں گردش زمانہ کی شکار ہوں اور عراق جانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے کہا: تو شام کیوں نہیں چلی جاتی جو حشر و نشر کی سر زمین ہے، ( آپ نے کہا ) «اصبري لكاع» ! کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اس کی ( مدینہ کی ) سختی اور تنگی معیشت پر صبر کیا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث عبیداللہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
صحیح · Ahmad Muhammad Shakirصحیح · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad MaaroufSahih - Bukhari And Muslim · Zubair Ali Zai

جامع ترمذی › كتاب المناقب › حدیث 3918

اصل عربی متن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ مَوْلاَةً، لَهُ أَتَتْهُ فَقَالَتِ اشْتَدَّ عَلَىَّ الزَّمَانُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الْعِرَاقِ ‏.‏ قَالَ فَهَلاَّ إِلَى الشَّأْمِ أَرْضِ الْمَنْشَرِ اصْبِرِي لَكَاعِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ صَبَرَ عَلَى شِدَّتِهَا وَلأْوَائِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ وَسُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةِ ‏.‏هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Narrated Ibn 'Umar:that a freed a slave girl of his came to him, and said: "Times have become hard on me and I want to go to Al-'Iraq." He said: "Why not to Ash-Sham the land of the resurrection? Have patience you foolish lady; I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever endures its hardships and difficulties (Al-Madinah) then I will be a witness, or an intercessor for him on the Day of Judgement." [He said:] There are narrations on this topic from Abu Sa'eed, Sufyan bin Abi Zuhair, and Subai'ah Al-Aslamiyyah
‹ پچھلی313 / 351اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں