العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / جامع ترمذی / كتاب المناقب / حدیث 3811

جامع ترمذی

حدیث 3811 — كتاب المناقب

کتاب 49 · Chapters on Virtues

خیثمہ بن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں پانے کی دعا کی، چنانچہ اللہ نے مجھے ابوہریرہ رضی الله عنہ کی ہم نشینی کی توفیق بخشی ۱؎، میں ان کے پاس بیٹھنے لگا تو میں نے ان سے عرض کیا: میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں کی توفیق مرحمت فرمانے کی دعا کی تھی، چنانچہ مجھے آپ کی ہم نشینی کی توفیق ملی ہے، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں کے ہو؟ میں نے عرض کیا: میرا تعلق اہل کوفہ سے ہے اور میں خیر کی تلاش و طلب میں یہاں آیا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تمہارے یہاں سعد بن مالک جو مستجاب الدعوات ہیں ۲؎ اور ابن مسعود جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کے پانی کا انتظام کرنے والے اور آپ کے کفش بردار ہیں اور حذیفہ جو آپ کے ہمراز ہیں اور عمار جنہیں اللہ نے شیطان سے اپنے نبی کی زبانی پناہ دی ہے اور سلمان جو دونوں کتابوں والے ہیں موجود نہیں ہیں۔ راوی حدیث قتادہ کہتے ہیں: کتابان سے مراد انجیل اور قرآن ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- خیثمہ یہ عبدالرحمٰن بن ابوسبرہ کے بیٹے ہیں ان کی نسبت ان کے دادا کی طرف کر دی گئی ہے۔
صحیح · Ahmad Muhammad Shakirصحیح · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad Maaroufضعیف · Zubair Ali Zai

جامع ترمذی › كتاب المناقب › حدیث 3811

اصل عربی متن
حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ، قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَيَسَّرَ لِي أَبَا هُرَيْرَةَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَوُفِّقْتَ لِي ‏.‏ فَقَالَ لِي مِنْ أَيْنَ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ جِئْتُ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ وَأَطْلُبُهُ ‏.‏ قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمْ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ مُجَابُ الدَّعْوَةِ وَابْنُ مَسْعُودٍ صَاحِبُ طَهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَعْلَيْهِ وَحُذَيْفَةُ صَاحِبُ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَمَّارُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ وَسَلْمَانُ صَاحِبُ الْكِتَابَيْنِ ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ وَالْكِتَابَانِ الإِنْجِيلُ وَالْقُرْآنُ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَخَيْثَمَةُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ نُسِبَ إِلَى جَدِّهِ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Narrated Khaithamah bin Abi Sabrah:"I came to Al-Madinah, so I asked Allah to make it easy for me to sit with one who is righteous. He made Abu Hurairah accessible to me, so I sat with him and said to him: 'Indeed, I asked Allah to make it easy for me to sit with one who is righteous, and it is to you that I was guided.' So he said to me: 'From where are you?' I said: 'From the people of Al-Kufah, I came to search out good and to seek it.' So he said: 'Is there not among you Sa'd bin Malik whose supplication is answered, Ibn Mas'ud, the one who used to carry the water for purification and the sandals of the Messenger of Allah (ﷺ), and Hudhaifah, the keeper of the secrets of the Messenger of Allah (ﷺ), and 'Ammar whom Allah has guarded from Shaitan upon the tongue of His Prophet, and Salman the companion of the Two Books?
‹ پچھلی206 / 351اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں