صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / جامع ترمذی / كتاب التفسير / حدیث 2966
جامع ترمذی
حدیث 2966 — كتاب التفسير
کتاب 47 · Chapters on Tafsir
عاصم الأحول کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ دونوں جاہلیت کے شعائر میں سے تھے ۱؎، پھر جب اسلام آیا تو ہم ان دونوں کے درمیان طواف کرنے سے رک گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ( صفا و مروہ شعائر الٰہی میں سے ہیں ) نازل فرمائی۔ تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے اس کے لیے ان دونوں کے درمیان طواف ( سعی ) کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان کے درمیان طواف ( سعی ) نفل ہے اور جو کوئی بھلائی کام ثواب کی خاطر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا قدردان اور علم رکھنے والا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
صحیح · Ahmad Muhammad Shakirصحیح · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad MaaroufSahih - Agreed Upon · Zubair Ali Zai
جامع ترمذی › كتاب التفسير › حدیث 2966
اصل عربی متن
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَ كَانَا مِنْ شَعَائِرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا كَانَ الإِسْلاَمُ أَمْسَكْنَا عَنْهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ : ( إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ) قَالَ هُمَا تَطَوُّعٌ (فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
انگریزی ترجمہ
Narrated 'Asim Al-Ahwal:"I asked Anas bin Malik about As-Safa and Al-Marwah, and he said: 'They were among the rites of Jahiliyyah.' He said: 'So during Islam, we refrained from them, then Allah, Blessed and Most High, revealed: Indeed As-Safa and Al-Marwah are of the symbols of Allah. So it is not a sin for those who perform Hajj or 'Umrah to the house to go between them. (2:158)' He said: 'So it is voluntarily then verily, Allah is the All-Recogniser, the All-Knowing. (2:)