العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / جامع ترمذی / كتاب الأمثال / حدیث 2867

جامع ترمذی

حدیث 2867 — كتاب الأمثال

کتاب 44 · Chapters on Parables

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کا پتا نہیں جھڑتا، یہ مومن کی مثال ہے تو مجھے بتاؤ یہ کون سا درخت ہے؟ عبداللہ کہتے ہیں: لوگ اسے جنگلوں کے درختوں میں ڈھونڈنے لگے، اور میرے دل میں آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کھجور ہے“، مجھے شرم آ گئی کہ میں ( چھوٹا ہو کر بڑوں کے سامنے ) بولوں ( جب کہ لوگ خاموش ہیں ) پھر میں نے ( اپنے والد ) عمر رضی الله عنہ کو وہ بات بتائی جو میرے دل میں آئی تھی، تو انہوں نے کہا ( میرے بیٹے ) اگر تم نے یہ بات بتا دی ہوتی تو یہ چیز مجھے اس سے زیادہ عزیز و محبوب ہوتی کہ میرے پاس اس اس طرح کا مال اور یہ یہ چیزیں ہوتیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
صحیح · Ahmad Muhammad Shakirصحیح · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad MaaroufSahih - Agreed Upon · Zubair Ali Zai

جامع ترمذی › كتاب الأمثال › حدیث 2867

اصل عربی متن
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، قَالَ‏ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ‏ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَهِيَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ حَدِّثُونِي مَا هِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هِيَ النَّخْلَةُ ‏"‏ ‏.‏ فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَقُولَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَحَدَّثْتُ عُمَرَ بِالَّذِي وَقَعَ فِي نَفْسِي ‏.‏ فَقَالَ لأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed there is a tree that does not shed its foilage, and it is is similar to the believer. Can any of you tell me what it is?" 'Abdullah said: "The people started thinking about the trees of the desert. And it occurred to me that it may be the date-palm." Then the Prophet (ﷺ) said: "It is the date-palm." But I was shy - meaning to say anything." 'Abdullah said: "So I informed 'Umar about what I had thought of, and he said: 'If you had said it, that would be more beloved to me than this or that
‹ پچھلی9 / 17اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں