العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / جامع ترمذی / كتاب صفة القيامة والرقاق والورع / حدیث 2459

جامع ترمذی

حدیث 2459 — كتاب صفة القيامة والرقاق والورع

کتاب 37 · Chapters on the description of the Day of Judgement, Ar-Riqaq, and Al-Wara'

شداد بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو رام کر لے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے اور عاجز و بیوقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات پر لگا دے اور رحمت الٰہی کی آرزو رکھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور «من دان نفسه» کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کر لے اس سے پہلے کہ قیامت کے روز اس کا محاسبہ کیا جائے، ۳- عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں: اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اور «عرض الأكبر» ( آخرت کی پیشی ) کے لیے تدبیر کرو، اور جو شخص دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے قیامت کے روز اس پر حساب و کتاب آسان ہو گا، ۴- میمون بن مہران کہتے ہیں: بندہ متقی و پرہیزگار نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے جیسا کہ اپنے شریک سے محاسبہ کرتا ہے اور یہ خیال کرے کہ میرا کھانا اور لباس کہاں سے ہے۔
ضعیف · Ahmad Muhammad Shakirضعیف · Al-Albaniضعیف · Zubair Ali Zai

جامع ترمذی › كتاب صفة القيامة والرقاق والورع › حدیث 2459

اصل عربی متن
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ قَالَ وَمَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ ‏"‏ ‏.‏ يَقُولُ حَاسَبَ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا قَبْلَ أَنْ يُحَاسَبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا وَتَزَيَّنُوا لِلْعَرْضِ الأَكْبَرِ وَإِنَّمَا يَخِفُّ الْحِسَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنْ حَاسَبَ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ لاَ يَكُونُ الْعَبْدُ تَقِيًّا حَتَّى يُحَاسِبَ نَفْسَهُ كَمَا يُحَاسِبُ شَرِيكَهُ مِنْ أَيْنَ مَطْعَمُهُ وَمَلْبَسُهُ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Shaddad bin Aws narrated that the Prophet (s.a.w) said:"The clever person ids the one who subjugates his soul, and works for what is after death. And the incapable is the one who follows his desires and merely hopes in Allah." [He said:] The meaning of his saying: "Who subjugates his soul", is to say the one who reckons with his soul in the world, before he is reckoned with, on the Day of Judgement. It has been related that 'Umar bin Al-Khattäb said: "Reckon with yourselves before you are reckoned with, and prepare for the Greatest Inquisition. The reckoning of the Day of Judgement is only light for the one who reckoned with himself in the world." And, it has been related that Maimun bin Mihran said: "The slave (of Allah) will not be a Taqi until he has reckoned himself, just as he would account for where his business partner got his food and clothing
‹ پچھلی45 / 108اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں