العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / جامع ترمذی / كتاب القدر / حدیث 2151

جامع ترمذی

حدیث 2151 — كتاب القدر

کتاب 32 · Chapters On Al-Qadar

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے فیصلے پر راضی ہونا ابن آدم کی سعادت ( نیک بختی ) ہے، اللہ سے خیر طلب نہ کرنا ابن آدم کی شقاوت ( بدبختی ) ہے اور اللہ کے فیصلے پر ناراض ہونا ابن آدم کی شقاوت ( بدبختی ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف محمد بن ابی حمید کی روایت سے جانتے ہیں، انہیں حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے، ان کی کنیت ابوابراہیم ہے، اور مدینہ کے رہنے والے ہیں، یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں۔
ضعیف · Ahmad Muhammad Shakirضعیف · Al-Albaniضعیف · Zubair Ali Zai

جامع ترمذی › كتاب القدر › حدیث 2151

اصل عربی متن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللَّهِ وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ سَخَطُهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ‏.‏ وَيُقَالُ لَهُ أَيْضًا حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمَدَنِيُّ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Sa'd narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:'From (the signs of) the son of Adam's prosperity, is his satisfaction with what Allah decreed for him, and from the son of Adam's misery is his avoiding to request guidance from Allah, and from the son of Adam's misery is his anger with what Allah decreed for him
‹ پچھلی19 / 26اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں