العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / جامع ترمذی / كتاب القدر / حدیث 2136

جامع ترمذی

حدیث 2136 — كتاب القدر

کتاب 32 · Chapters On Al-Qadar

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ زمین کرید رہے تھے کہ اچانک آپ نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا پھر فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جس کا حال معلوم نہ ہو، ( وکیع کی روایت میں ہے: تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں جس کی جنت یا جہنم کی جگہ نہ لکھ دی گئی ہو ) ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم لوگ ( تقدیر کے لکھے ہوئے پر ) بھروسہ نہ کر لیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، تم لوگ عمل کرو اس لیے کہ ہر آدمی کے لیے وہ چیز آسان کر دی گئی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
صحیح · Ahmad Muhammad Shakirصحیح · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad MaaroufSahih - Agreed Upon · Zubair Ali Zai

جامع ترمذی › كتاب القدر › حدیث 2136

اصل عربی متن
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ،قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَنْكُتُ فِي الأَرْضِ إِذْ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ قَدْ عُلِمَ وَقَالَ وَكِيعٌ إِلاَّ قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا أَفَلاَ نَتَّكِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ لاَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Ali narrated:"We were with the Messenger of Allah (s.a.w) and he was scraping the ground, when he raised his head to the heavens, then said: 'There is not one of you but (his place) is known' – Waki said: 'His place has been decreed (be it) in the Fire, and (or) his place in Paradise.' They said: 'Shall we not rely upon this O Messenger of Allah?' He said: 'No. Work, for everyone is facilitated for what he was created.'”(Sahih)
‹ پچھلی4 / 26اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں