العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / جامع ترمذی / كتاب الطب / حدیث 2080

جامع ترمذی

حدیث 2080 — كتاب الطب

کتاب 28 · Chapters on Medicine

عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لیے میرے پاس تشریف لائے، اس وقت مجھے ایسا درد تھا کہ لگتا تھا وہ مار ڈالے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے داہنے ہاتھ سے سات مرتبہ درد کی جگہ چھوؤ اور یہ دعا پڑھو «أعوذ بعزة الله وقدرته وسلطانه من شر ما أجد» ”میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت اور طاقت کے وسیلے سے اس تکلیف کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے لاحق ہے“۔ میں نے ویسا ہی کیا اور اللہ تعالیٰ نے میری تکلیف دور کر دی، چنانچہ میں ہمیشہ اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو یہ دعا پڑھنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
صحیح · Ahmad Muhammad Shakirصحیح · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad Maaroufصحیح · Zubair Ali Zai

جامع ترمذی › كتاب الطب › حدیث 2080

اصل عربی متن
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، قال حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِي، أَنَّهُ قَالَ أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَانَ يُهْلِكُنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ امْسَحْ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُوَّتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَفَعَلْتُ فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ بِي فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Uthman bin Abi Al-'As narrated:"The Messenger of Allah (S.A.W) came to me while I had a pain that almost ruined me. So,the Messenger of Allah (S.A.W) said: 'Rub it with your right hand seven times and say A`udhu bi `Izzatillah Wa Qudratihi wa Sultanihi min sharri ma ajid." ("I seek refuge in Allah's might, power, an authority, from the evil of what I suffer.)" He said: "So I did it, and Allah removed what I had, and I never ceased telling my family and others to do it
‹ پچھلی45 / 54اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں