صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / جامع ترمذی / كتاب البر والصلة / حدیث 1934
جامع ترمذی
حدیث 1934 — كتاب البر والصلة
کتاب 27 · Chapters on Righteousness And Maintaining Good Relations With Relatives
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کسی نے کہا: اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس انداز سے اپنے بھائی کا تمہارا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرے“، اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر وہ چیز اس میں موجود ہو جسے میں بیان کر رہا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت ( چغلی ) کی، اور جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود نہیں ہے تو تم نے اس پر تہمت باندھی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبرزہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
صحیح · Ahmad Muhammad Shakirصحیح · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad Maaroufصحیح · Zubair Ali Zai
جامع ترمذی › كتاب البر والصلة › حدیث 1934
اصل عربی متن
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْغِيبَةُ قَالَ " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ " . قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ قَالَ " إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
انگریزی ترجمہ
Abu Hurairah narrated that it was said:" O Messenger of Allah! What is backbiting?" He said : " Mentioning your brother with that which he does not like." He said " What if what I said about him is so?" He said: "If what you said about him is so, then you have backbitten him, and if it is not as you said, then you have slandered him