صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / جامع ترمذی / كتاب الأضاحي / حدیث 1511
جامع ترمذی
حدیث 1511 — كتاب الأضاحي
کتاب 19 · The Book on Sacrifices
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرماتے تھے؟ وہ بولیں: نہیں، لیکن اس وقت بہت کم لوگ قربانی کرتے تھے، اس لیے آپ چاہتے تھے کہ جو لوگ قربانی نہیں کر سکے ہیں انہیں کھلایا جائے، ہم لوگ قربانی کے جانور کے پائے رکھ دیتے پھر ان کو دس دن بعد کھاتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، ام المؤمنین ( جن سے حدیث مذکور مروی ہے ) وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی الله عنہا ہیں، ان سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔
ضعیف · Ahmad Muhammad Shakirضعیف · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad MaaroufSahih - Bukhari And Muslim · Zubair Ali Zai
جامع ترمذی › كتاب الأضاحي › حدیث 1511
اصل عربی متن
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ قُلْتُ لأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي قَالَتْ لاَ وَلَكِنْ قَلَّ مَنْ كَانَ يُضَحِّي مِنَ النَّاسِ فَأَحَبَّ أَنْ يُطْعَمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي وَلَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهُ بَعْدَ عَشَرَةِ أَيَّامٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأُمُّ الْمُؤْمِنِينَ هِيَ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ رُوِيَ عَنْهَا هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ .
انگریزی ترجمہ
Narrated 'Abis bin Rabi'ah:"I said to the Mother of the Believers: 'Did the Messenger of Allah (ﷺ) prohibit from the meat of the sacrifice?' She said: 'No, but only a few people could slaughter, so he liked that they feed those who did not slaughter. (Later) we would store a leg to eat after ten days