العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن نسائی / كتاب الحيض والاستحاضة / حدیث 371

سنن نسائی

حدیث 371 — كتاب الحيض والاستحاضة

کتاب 3 · The Book of Menstruation and Istihadah

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی کہ اسی دوران مجھے حیض آ گیا، تو میں چپکے سے کھسک آئی، اور جا کر میں نے اپنے حیض کا کپڑا لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم حائضہ ہو گئی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ نے مجھے بلایا، تو میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی، یہ الفاظ عبیداللہ بن سعید کے ہیں۔
صحیح · Abu Ghuddahصحیح · Al-Albaniصحیح · Zubair Ali Zai

سنن نسائی › كتاب الحيض والاستحاضة › حدیث 371

اصل عربی متن
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا قَالَتْ، بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَفِسْتِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ ‏.‏ وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Umm Salamah narrated:"While I was lying down with the Messenger of Allah (ﷺ) under a blanket, my period came so I slipped away and put on the clothes I used to wear when I was menstruating. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Are you menstruating?' I said: 'Yes.' Then he called me to lie down with him under the blanket." This is the wording of 'Ubaidullah bin Sa'eed.[1] [1] That is, one of the narrators in one of the chains, as the author reported it through different chains, as he did when it preceded, see No
‹ پچھلی24 / 49اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں