العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن نسائی / كتاب الطلاق / حدیث 3529

سنن نسائی

حدیث 3529 — كتاب الطلاق

کتاب 27 · The Book of Divorce

فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے کچھ غلام اپنے یہاں کام کرانے کے لیے اجرت پر لیے تو انہوں نے انہیں مار ڈالا چنانچہ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں اپنے شوہر کے کسی مکان میں بھی نہیں ہوں اور میرے شوہر کی طرف سے میرے گزران کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے تو میں اپنے گھر والوں ( یعنی ماں باپ ) اور یتیموں کے پاس چلی جاؤں اور ان کی خبرگیری کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ایسا کر لو“، پھر ( تھوڑی دیر بعد ) آپ نے فرمایا: ”کیسے بیان کیا تم نے ( ذرا ادھر آؤ تو ) “؟ تو میں نے اپنی بات آپ کے سامنے دہرا دی۔ ( اس پر ) آپ نے فرمایا: ”جہاں رہتے ہوئے تمہیں اپنے شوہر کے انتقال کی خبر ملی ہے وہیں رہ کر اپنی عدت کے دن بھی پوری کرو“۔
صحیح · Abu Ghuddahصحیح · Al-Albaniحسن · Zubair Ali Zai

سنن نسائی › كتاب الطلاق › حدیث 3529

اصل عربی متن
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمَّتِهِ، زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ عَنِ الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ، أَنَّ زَوْجَهَا، تَكَارَى عُلُوجًا لِيَعْمَلُوا لَهُ فَقَتَلُوهُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَتْ إِنِّي لَسْتُ فِي مَسْكَنٍ لَهُ وَلاَ يَجْرِي عَلَىَّ مِنْهُ رِزْقٌ أَفَأَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِي وَيَتَامَاىَ وَأَقُومُ عَلَيْهِمْ قَالَ ‏"‏ افْعَلِي ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ قُلْتِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ قَوْلَهَا قَالَ ‏"‏ اعْتَدِّي حَيْثُ بَلَغَكِ الْخَبَرُ ‏"‏ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
It was narrated from Al-Furai'ah bint Malik that her husband hired some slaves to work for him and they killed him. She mentioned that to the Messenger of Allah and said:"I am not living in a house that belongs to him, and I do not receive maintenance from him; should I move to my family with my two orphans and stay with them?" He said: "Do that." Then he said: "What did you say?" So she told him again and he said: "Observe your 'Iddah where the news came to you
‹ پچھلی141 / 174اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں