العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن نسائی / كتاب صلاة الخوف / حدیث 1534

سنن نسائی

حدیث 1534 — كتاب صلاة الخوف

کتاب 18 · The Book of the Fear Prayer

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( خوف کی نماز پڑھانے ) کھڑے ہوئے، لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، تو آپ نے اللہ اکبر کہا، اور لوگوں نے بھی اللہ اکبر کہا، پھر آپ نے رکوع کیا، اور ان میں سے بھی کچھ لوگوں نے رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو جن لوگوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کر لیا تھا وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے، اور اپنے بھائیوں کی حفاظت میں لگ گئے، اور دوسرا گروہ آیا پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا، اور سجدہ کیا، اور سبھی لوگ نماز ہی میں تھے، اللہ اکبر کہتے تھے، لیکن ایک دوسرے کی حفاظت ( بھی ) کرتے تھے۔
صحیح · Abu Ghuddahصحیح · Al-AlbaniSahih Bukhari · Zubair Ali Zai

سنن نسائی › كتاب صلاة الخوف › حدیث 1534

اصل عربی متن
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعَ أُنَاسٌ مِنْهُمْ ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَتَأَخَّرَ الَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ وَحَرَسُوا إِخْوَانَهُمْ وَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَرَكَعُوا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسَجَدُوا وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي صَلاَةٍ يُكَبِّرُونَ وَلَكِنْ يَحْرُسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ‏.‏
انگریزی ترجمہ
It was narrated from 'Ubaidullah bin Abdullah bin Utbah that:'Abdullah bin 'Abbas said: "The Messenger of Allah (ﷺ) stood and the people stood with him, and he said the takbir and they said the takbir. Then he bowed, and some of them bowed, then he prostrated and they prostrated, then he stood for the second rak'ah and those who had prostrated with him moved back and guarded their brothers, and the other group came and bowed and prostrated with the Prophet (ﷺ). All the people were praying and saying the takbir, but they were guarding one another
‹ پچھلی6 / 27اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں