صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / موطأ امام مالک / كتاب الصدقة / حدیث 1849
موطأ امام مالک
حدیث 1849 — كتاب الصدقة
کتاب 58 · Sadaqa
عطار بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کے پاس کچھ مال بھیجا حضرت عمر نے اس کو پھیر دیا پوچھا تم نے کیوں پھیر دیا حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے فرمایا کے بہتر وہ شخص ہے جو کسی سے کچھ نہ لے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ مانگ کر کچھ نہ لے اور جو بن مانگے ملے وہ اللہ کا دیا ہوا ہے حضرت عمر نے کہا قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اب کسی سے کچھ نہ مانگوں گا اور جو بن مانگے میرے پاس آئے گا اس کو لونگا ۔
صحیح · Salim al-Hilali
موطأ امام مالک › كتاب الصدقة › حدیث 1849
اصل عربی متن
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعَطَاءٍ فَرَدَّهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِمَ رَدَدْتَهُ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ خَيْرًا لأَحَدِنَا أَنْ لاَ يَأْخُذَ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا ذَلِكَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ فَأَمَّا مَا كَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ يَرْزُقُكَهُ اللَّهُ " . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ أَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلاَ يَأْتِينِي شَىْءٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ إِلاَّ أَخَذْتُهُ .
انگریزی ترجمہ
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent a gift to Umar ibn al-Khattab, and Umar returned it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Why did you return it?" He said, "Messenger of Allah, didn't you tell us that it is better for us not to take anything from anyone?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "That is by asking. Provision which Allah gives you is different from asking." Umar ibn al-Khattab said, "By the One in whose hand my self is, I will not ask anything from anyone, and anything that comes to me without my asking for it, I will accept