العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / موطأ امام مالک / كتاب العقول والديات / حدیث 1586

موطأ امام مالک

حدیث 1586 — كتاب العقول والديات

کتاب 43 · Blood-Money

عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بنی مدلج میں سے جس کا نام قتادہ تھا اپنے لڑکے کو تلوار ماری وہ اس کے پنڈلی میں لگی خون بند نہ ہوا آخر مر گیا تو سراقہ بن جعشم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا قدید کے پاس ایک سو بیس اونٹ تیار رکھ جب تک میں وہاں آؤں جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں آئے تو ان اونٹوں میں سے تین حقے اور بیس جزعے لئے اور چالیس حقے لئے پھر کہا کون ہے مقتول کا بھائی؟ اس نے کہا کیوں میں موجود ہوں نا! کہا تو یہ سب اونٹ لے لے اس واسطے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاتل کو میراث نہیں ملتی سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ماہ حرام میں اگر کوئی قتل کرے تو دیت میں سختی کریں گے انہوں نے کہا نہیں بلکہ بڑھا دیں گے بوجہ ان مہینوں کی حرمت کے پھر سعید سے پوچھا کہ اگر کوئی زخمی کرے ان مہینوں میں تو اس کی بھی دیت بڑھا دیں گے جیسسے قتل کی دیت بڑھا دیں گے سعید نے کہا ہاں ۔
ضعیف · Salim al-Hilali

موطأ امام مالک › كتاب العقول والديات › حدیث 1586

اصل عربی متن
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ - يُقَالُ لَهُ قَتَادَةُ - حَذَفَ ابْنَهُ بِالسَّيْفِ فَأَصَابَ سَاقَهُ فَنُزِيَ فِي جُرْحِهِ فَمَاتَ فَقَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اعْدُدْ عَلَى مَاءِ قُدَيْدٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ بَعِيرٍ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَيْكَ فَلَمَّا قَدِمَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخَذَ مِنْ تِلْكَ الإِبِلِ ثَلاَثِينَ حِقَّةً وَثَلاَثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً ثُمَّ قَالَ أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ قَالَ هَا أَنَا ذَا ‏.‏ قَالَ خُذْهَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Malik related to me from Yahya ibn Said from Amr ibn Shuayb that a man of the Banu Mudlij called Qatada threw a sword at his son and it struck his thigh. The wound bled profusely and he died. Suraqa ibn Jusham came to Umar ibn al-Khattab and mentioned that to him Umar said to him, "At the watering place of Qudayd count one hundred and twenty camels and wait until I come to you." When Umar ibn al-Khattab came to him, he took thirty four-year-old camels, thirty five-year-old camels, and forty pregnant camels from them. Then he said, "Where is the brother of the slain man?" He said, "Here." He said, "Take them. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'The killer gets nothing
‹ پچھلی34 / 43اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں