العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / موطأ امام مالک / كتاب الطلاق / حدیث 1265

موطأ امام مالک

حدیث 1265 — كتاب الطلاق

کتاب 29 · Divorce

زینب نے کہا میں نے اپنی ماں ام سلمہ کے پاس گئی جو بی بی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انہوں نے کہا ایک عورت آئی ۴سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بیٹی کا خاوند مر گیا اور اس کی آنکھیں دکھتی ہیں اگر فرمائیے تو سرمہ لگا دوں آپ نے فرمایا نہیں نہیں دو بار یا تین بار بلکہ چار مہینے دس دن تک پرہیز کرنا ضروری ہے اور جاہلیت میں ایک سال تک پرہیز کرتے تھے جب سال ختم ہوتا تو اونٹ کی مینگنی پھینکتے تھے۔ حمید نے کہا میں نے زینب سے پوچھا اونٹ کی مینگنی پھینکنے کیا مطلب ہے انہوں نے کہا زمانہ جاہلیت میں جب عورت کا خاوند مرجاتا تو ایک کھنڈر میں چلے جاتے اور برے سے برے کپڑے پہن لیتے پھر ایک سال تک خوشبو وغیرہ کچھ نہ لگاتے بعد سال کے ایک جانور لاتے گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ اس کو اپنے بدن پر ملتے اکثر وہ مرجاتا بعد اس کے باہر نکلتے تو ایک اونٹ کی مینگنی اس کو دیتے اس کو پھینک کر پھر اختیار ہوتا چاہے خوشبو لگائے یا اور کوئی کام کرے۔
صحیح · Salim al-Hilali

موطأ امام مالک › كتاب الطلاق › حدیث 1265

اصل عربی متن
قَالَتْ زَيْنَبُ وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا أَفَتَكْحُلُهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلاَ شَيْئًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَىْءٍ إِلاَّ مَاتَ ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Zaynab said, "I heard my mother, Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, say that a woman came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, 'Messenger of Allah! My daughter's husband died, and her eyes are troubling her, can she put kohl on them?' The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'No' two or three times. Then he said, 'It is only four months and ten days. In the Jahiliyya, none of you threw away the piece of dung until a year had passed.' " Humayd ibn Nafi said, "I asked Zaynab to explain what 'throwing away the piece of dung at the end of a year' meant. Zaynab said, 'In the Jahiliyya when a woman's husband died, she went into a small tent and dressed in the worst of clothes. She did not touch perfume or anything until a year had passed. Then she was brought an animal - a donkey, a sheep, or a bird, and she would break her idda with it, by rubbing her body against it (taftaddu). Rarely did she break her idda with anything (by rubbing herself against it) but that it died. Then she would come out and would be given a piece of dung. She would throw it away and then return to whatever she wished of perfumes or whatever.' " Malik explained, 'Taftaddu' means to wipe her skin with it in the same way as with a healing charm
‹ پچھلی112 / 118اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں