العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / موطأ امام مالک / كتاب الزكاة / حدیث 618

موطأ امام مالک

حدیث 618 — كتاب الزكاة

کتاب 17 · Zakat

اسلم بن عدوی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا حضرت عمر بن خطاب سے کہ شتر خانے میں ایک اندھی اونٹنی ہے تو فرمایا حضرت عمر نے وہ اونٹنی کسی گھروالوں کو دے دے تاکہ وہ اس سے نفع اٹھائیں میں نے کہا وہ اندھی ہے حضرت عمر نے کہا اس کو اونٹوں کی قطار میں باندھ دیں گے میں نے کہا وہ چارہ کیسے کھائے گی حضرت عمر نے کہا وہ جزیے کے جانوروں میں سے ہے یا صدقہ کے میں نے کہا وہ جزیے کے حضرت عمر نے کہا و اللہ تم لوگوں نے اس کے کھانے کا ارادہ کیا ہے میں نے کہا نہیں اس پر نشانی جزیہ کی موجود ہے تو حکم کیا حضرت عمر نے اور وہ نحر کی گئی اور حضرت عمر کے پاس نو پیالے تھے جو میوہ یا اچھی چیز آتی آپ ان میں رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کو بھیجا کرتے اور سب سے آخر میں اپنی بیٹی حفصہ کے پاس بھیجتے اگر وہ چیز کم ہوتی تو کمی حفصہ کے حصے میں ہوتی تو پہلے آپ نے گوشت کو پیالوں میں ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کو روانہ کیا بعد اس کے پکانے کا حکم کیا اور سب مہاجرین اور انصار کی دعوت کر دی ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھ بھیجا اپنے عاملوں کو جو لوگ جزیہ والوں میں سے مسلمان ہوں ان کا جزیہ معاف کریں ۔
Mauquf Sahih · Salim al-Hilali

موطأ امام مالک › كتاب الزكاة › حدیث 618

اصل عربی متن
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنَّ فِي الظَّهْرِ نَاقَةً عَمْيَاءَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ ادْفَعْهَا إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ يَنْتَفِعُونَ بِهَا ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ وَهِيَ عَمْيَاءُ فَقَالَ عُمَرُ يَقْطُرُونَهَا بِالإِبِلِ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ كَيْفَ تَأْكُلُ مِنَ الأَرْضِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ أَمِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ هِيَ أَمْ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ فَقُلْتُ بَلْ مِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَرَدْتُمْ - وَاللَّهِ - أَكْلَهَا ‏.‏ فَقُلْتُ إِنَّ عَلَيْهَا وَسْمَ الْجِزْيَةِ ‏.‏ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ فَنُحِرَتْ وَكَانَ عِنْدَهُ صِحَافٌ تِسْعٌ فَلاَ تَكُونُ فَاكِهَةٌ وَلاَ طُرَيْفَةٌ إِلاَّ جَعَلَ مِنْهَا فِي تِلْكَ الصِّحَافِ فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَيَكُونُ الَّذِي يَبْعَثُ بِهِ إِلَى حَفْصَةَ ابْنَتِهِ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ نُقْصَانٌ كَانَ فِي حَظِّ حَفْصَةَ - قَالَ - فَجَعَلَ فِي تِلْكَ الصِّحَافِ مِنْ لَحْمِ تِلْكَ الْجَزُورِ فَبَعَثَ بِهِ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَ بِمَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ تِلْكَ الْجَزُورِ فَصُنِعَ فَدَعَا عَلَيْهِ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ أَرَى أَنْ تُؤْخَذَ النَّعَمُ مِنْ أَهْلِ الْجِزْيَةِ إِلاَّ فِي جِزْيَتِهِمْ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from his father that he said to Umar ibn al-Khattab, "There is a blind she- camel behind the house,'' soUmar said, "Hand it over to a household so that they can make (some) use of it." He said, "But she is blind." Umar replied, "Then put it in a line with other camels." He said, "How will it be able to eat from the ground?" Umar asked, "Is it from the livestock of the jizya or the zakat?" and Aslam replied, "From the livestock of the jizya." Umar said, "By AIIah, you wish to eat it." Aslam said, "It has the brand of the jizya on it." So Umar ordered it to be slaughtered. He had nine platters, and on each of the platters he put some of every fruit and delicacy that there was and then sent them to the wives of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and the one he sent to his daughter Hafsa was the last of them all, and if there was any deficiency in any of them it was in Hafsa's portion. "He put meat from the slaughtered animal on the platters and sent them to the wives of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and he ordered what was left of the meat of the slaughtered animal to be prepared. Then he invited the Muhajirun and the Ansar to eat it." Malik said, "I do not think that livestock should be taken from people who pay the jizya except as jizya
‹ پچھلی41 / 52اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں