صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن ابن ماجہ / كتاب الزكاة / حدیث 1786
سنن ابن ماجہ
حدیث 1786 — كتاب الزكاة
کتاب 8 · The Chapters Regarding Zakat
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن اونٹوں کی زکاۃ نہیں دی گئی وہ آئیں گے اور اپنے مالک کو اپنے پاؤں سے روندیں گے، اور گائیں اور بکریاں آئیں گی وہ اپنے مالک کو اپنے کھروں سے روندیں گی اور اسے سینگوں سے ماریں گی، اور اس کا خزانہ ایک گنجا سانپ بن کر آئے گا، اور اپنے مالک سے قیامت کے دن ملے گا، اس کا مالک اس سے دور بھاگے گا، پھر وہ اس کے سامنے آئے گا تو وہ بھاگے گا، اور کہے گا: آخر تو میرے پیچھے کیوں پڑا ہے؟ وہ کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں، آخر مالک اپنے ہاتھ کے ذریعہ اس سے اپنا بچاؤ کرے گا لیکن وہ اس کا ہاتھ ڈس لے گا ۱؎۔
Hasan Sahih · Al-AlbaniHasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqiصحیح · Shuaib Al Arnautصحیح · Zubair Ali Zai
سنن ابن ماجہ › كتاب الزكاة › حدیث 1786
اصل عربی متن
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " تَأْتِي الإِبِلُ الَّتِي لَمْ تُعْطِ الْحَقَّ مِنْهَا تَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَخْفَافِهَا وَتَأْتِي الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ تَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلاَفِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ فَيَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ فَيَفِرُّ صَاحِبُهُ فَيَقُولُ مَالِي وَلَكَ . فَيَقُولُ أَنَا كَنْزُكَ أَنَا كَنْزُكَ . فَيَتَّقِيهِ بِيَدِهِ فَيَلْقَمُهَا .
انگریزی ترجمہ
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: “The camels on which the dues (i.e. Zakat) were not paid will come, trampling their owners with their hooves. And cattle and sheep will come and trample at their owners with their hooves and butt them with their horns, And hoarded treasure will come in the form of a bald-headed snale, and will meet its owner on the Day of Resurrection. Its owner will flee from it two time, then it will come to him and he will flee again, and will say: 'What do I have to do with you?' and it will say: 'I am your hoarded treasure, I am your hoarded treasure.' He will try to shield himself with this hand and it will devour it.”