العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن ابن ماجہ / كتاب إقامة الصلاة والسنن فيها / حدیث 1416

سنن ابن ماجہ

حدیث 1416 — كتاب إقامة الصلاة والسنن فيها

کتاب 5 · Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them

ابوحازم کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے بارے میں اختلاف کیا کہ وہ کس چیز کا بنا ہوا تھا، تو لوگ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے پوچھا؟ انہوں نے کہا: اب لوگوں میں کوئی ایسا باقی نہیں رہا جو اس منبر کا حال مجھ سے زیادہ جانتا ہو، وہ غابہ ۱؎ کے جھاؤ کا تھا، جس کو فلاں بڑھئی نے بنایا تھا، جو فلاں عورت کا غلام تھا، بہرحال وہ غلام منبر لے کر آیا، جب وہ رکھا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور قبلہ کی طرف رخ کیا، اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، آپ نے قراءت کی پھر رکوع کیا، اور رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے، اور زمین پہ سجدہ کیا، پھر منبر کی طرف لوٹ گئے، اور قراءت کی، پھر رکوع کیا پھر رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوئے، پھر الٹے پاؤں پیچھے لوٹے، ( اور منبر سے اتر کر ) زمین پر سجدہ کیا۔
صحیح · Al-Albaniصحیح · Muhammad Fouad Abd al-BaqiSahih - Bukhari And Muslim · Zubair Ali Zai

سنن ابن ماجہ › كتاب إقامة الصلاة والسنن فيها › حدیث 1416

اصل عربی متن
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ هُوَ فَأَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ مَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ عَمِلَهُ فُلاَنٌ مَوْلَى فُلاَنَةَ نَجَّارٌ فَجَاءَ بِهِ فَقَامَ عَلَيْهِ حِينَ وُضِعَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالأَرْضِ ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ فَقَامَ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالأَرْضِ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
It was narrated that Abu Hazim said:“The people differed concerning the pulpit of the Messenger of Allah (ﷺ) and what it was made of. So they came to Sahl bin Sa’d and asked him. He said: ‘There is no one left who knows more about that than I. It is made of tamarisk (a type of tree) from Ghabah. It was made by so-and-so, the freed slave of so- and-so (a woman), (who was) a carpenter. He brought it and he (the Prophet (ﷺ)) stood on it when it was put in position. He faced the Qiblah and the people stood behind him. He recited Qur’an, then bowed and raised his head, then he moved backwards until he prostrated on the ground, then he went back to the pulpit and recited Qur’an, then bowed and raised his head, then he moved backwards until he prostrated on the ground.”
‹ پچھلی614 / 630اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں