صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن ابن ماجہ / كتاب إقامة الصلاة والسنن فيها / حدیث 1022
سنن ابن ماجہ
حدیث 1022 — كتاب إقامة الصلاة والسنن فيها
کتاب 5 · Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی سمت بلغم دیکھا، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آگے بلغم تھوکتے ہیں؟ کیا تم میں کا کوئی یہ پسند کرے گا کہ دوسرا شخص اس کی طرف منہ کر کے اس کے منہ پر تھوکے؟ جب کوئی شخص نماز کی حالت میں تھوکے تو اپنے بائیں جانب تھوکے، یا اپنے کپڑے میں اس طرح تھوک لے ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ پھر اسماعیل بن علیہ نے مجھے اپنے کپڑے میں تھوک کر پھر مل کر دکھایا۔
صحیح · Al-Albaniصحیح · Muhammad Fouad Abd al-BaqiSahih Muslim · Zubair Ali Zai
سنن ابن ماجہ › كتاب إقامة الصلاة والسنن فيها › حدیث 1022
اصل عربی متن
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَهُ - يَعْنِي رَبَّهُ - فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْزُقَنَّ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ لِيَقُلْ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ " . ثُمَّ أَرَانِي إِسْمَاعِيلُ يَبْزُقُ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ يَدْلُكُهُ .
انگریزی ترجمہ
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) saw some sputum in the direction of the Qiblah of the mosque. He turned to the people and said:“What is wrong with one of you that he stands facing Him (meaning his Lord) and spits in front of Him? Would anyone like to be faced by someone who spits in his face? If anyone of you needs to spit, then let him spit to his left, or let him do like this in his garment.” Then Ismail (Abu Bakr bin Abu Shuaibah) showed me how he spat in his garment then rubbed it