العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
اردو

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن ابن ماجہ / كتاب الأطعمة / حدیث 3303

سنن ابن ماجہ

حدیث 3303 — كتاب الأطعمة

کتاب 29 · Chapters on Food

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا بھیجا، جس میں تازہ کھجور تھے، میں نے آپ کو نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک غلام کے پاس قریب میں تشریف لے گئے تھے، اس نے آپ کو دعوت دی تھی، اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا، آپ کھا رہے تھے کہ میں بھی جا پہنچا تو آپ نے مجھے بھی اپنے ساتھ کھانے کے لیے بلایا، ( غلام نے ) گوشت اور کدو کا ثرید تیار کیا تھا، میں دیکھ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت اچھا لگ رہا ہے، تو میں اس کو اکٹھا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھانے لگا، پھر جب ہم اس میں سے کھا چکے، تو آپ اپنے گھر واپس تشریف لائے، میں نے ( تازہ کھجور کا ) ٹوکرا آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے لگے اور آپ تقسیم بھی کرتے جاتے تھے، یہاں تک کہ اسے بالکل ختم کر دیا۔
صحیح · Al-Albaniصحیح · Muhammad Fouad Abd al-Baqiصحیح · Shuaib Al Arnautصحیح · Zubair Ali Zai

سنن ابن ماجہ › كتاب الأطعمة › حدیث 3303

اصل عربی متن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ بَعَثَتْ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمْ أَجِدْهُ وَخَرَجَ قَرِيبًا إِلَى مَوْلًى لَهُ دَعَاهُ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ ‏.‏ قَالَ فَدَعَانِي لآكُلَ مَعَهُ ‏.‏ قَالَ وَصَنَعَ ثَرِيدَةً بِلَحْمٍ وَقَرْعٍ ‏.‏ قَالَ فَإِذَا هُوَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ ‏.‏ قَالَ فَجَعَلْتُ أَجْمَعُهُ فَأُدْنِيهِ مِنْهُ فَلَمَّا طَعِمْنَا مِنْهُ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ وَوَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَقْسِمُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِهِ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
It was narrated that Anas said:“Umm Sulaim sent with me a basket of fresh dates for the Messenger of Allah (ﷺ), but I did not find him, as he had just gone out to a freed slave of his who had invited him and made food for him. I came to him and he was eating, and he called me to eat with him. He (the freed slave) had served him Tharid with meat and gourd, and he liked the gourd, so I started to collect the (pieces of) gourd and put them near him. When he had eaten he went back to him house and I put the basket (of dates) before him, and he started to eat them and share them, until he finished the last of them.”
‹ پچھلی53 / 120اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں