صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن ابی داؤد / كتاب الصلاة / حدیث 1069
سنن ابی داؤد
حدیث 1069 — كتاب الصلاة
کتاب 2 · Prayer (Kitab Al-Salat)
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی بصارت چلی جانے کے بعد وہ ان کے راہبر تھے، وہ کہتے ہیں کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب جمعہ کے دن اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے، عبدالرحمٰن بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب آپ اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں ان کے لیے رحمت کی دعا اس لیے کرتا ہوں کہ یہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں قبیلہ بنو بیاضہ کے حرہ نقیع الخضمات میں واقع ( بستی، گاؤں ) ھزم النبیت ۱؎ میں جمعہ کی نماز پڑھائی، میں نے پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ کہا: ہم چالیس تھے۔
حسن · Al-Albaniحسن · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamidحسن · Shuaib Al ArnautIsnaad Hasan · Zubair Ali Zai
سنن ابی داؤد › كتاب الصلاة › حدیث 1069
اصل عربی متن
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، - وَكَانَ قَائِدَ أَبِيهِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ بَصَرُهُ عَنْ أَبِيهِ، كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَرَحَّمَ لأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ . فَقُلْتُ لَهُ إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ، تَرَحَّمْتَ لأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ لأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ جَمَّعَ بِنَا فِي هَزْمِ النَّبِيتِ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي نَقِيعٍ يُقَالُ لَهُ نَقِيعُ الْخَضِمَاتِ . قُلْتُ كَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَرْبَعُونَ .
انگریزی ترجمہ
Narrated Ka'b ibn Malik: AbdurRahman ibn Ka'b ibn Malik said: When Ka'b ibn Malik heard the call to prayer on Friday, he prayed for As'ad ibn Zurarah. I asked him: What is the matter that when you hear the call to prayer, you pray for As'ad ibn Zurarah? He replied: This is because he held the Friday prayer for the first time for us at Hazm an-Nabit of Harrah belonging to Banu Bayadah in Naqi', called Naqi' al-Khadumat. I asked him: How many were you at that time ? He said: Forty