العربية English اردو Français Español Deutsch Русский 中文
اكتشف الإسلامDiscover Islam

الرئيسية / مكتبة الحديث / صحيح مسلم / كتاب الوصية / الحديث 4214

صحيح مسلم

الحديث 4214 — كتاب الوصية

الكتاب 25 · The Book of Wills

وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَادَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَالنِّصْفُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ أَبِالثُّلُثِ فَقَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ‏"‏ ‏.‏

صحيح مسلم › كتاب الوصية › الحديث 4214

الترجمة الإنجليزية
Ibn Sa'd reported his father as saying:Allah's Apostle (ﷺ) visited me during my illness. I said: I am willing away the whole of my property. He said: No. I said: Then half? He said: No. I said: Should I will away one-third? He said: Yes, and even one-third is enough
الترجمة الأردية
عبدالملک بن عُمَیر نے مُصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت کی تو میں نے عرض کی : کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ۔ " میں نے عرض کی : تو آدھے کی؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ۔ " میں نے عرض کی : ایک تہائی کی؟ تو آپ نے فرمایا : " ہاں ، اور تہائی بھی زیادہ ہے
‹ السابق11 / 31التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا