العربية English اردو Français Español Deutsch Русский 中文
اكتشف الإسلامDiscover Islam

الرئيسية / مكتبة الحديث / جامع الترمذي / كتاب التفسير / الحديث 3083

جامع الترمذي

الحديث 3083 — كتاب التفسير

الكتاب 47 · Chapters on Tafsir

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ رَجُلٍ، لَمْ يُسَمِّهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏:‏ ‏(‏ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ ‏)‏ قَالَ ‏"‏ أَلاَ إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْىُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ أَلاَ إِنَّ اللَّهَ سَيَفْتَحُ لَكُمُ الأَرْضَ وَسَتُكْفَوْنَ الْمُؤْنَةَ فَلاَ يَعْجِزَنَّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ وَحَدِيثُ وَكِيعٍ أَصَحُّ ‏.‏ وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ لَمْ يُدْرِكْ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ وَقَدْ أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ ‏.‏
Hasan Sahih · Ahmad Muhammad ShakirHasan Sahih · Al-Albaniصحيح · Zubair Ali Zai

جامع الترمذي › كتاب التفسير › الحديث 3083

الترجمة الإنجليزية
Narrated 'Uqbah bin 'Amir:that the Messenger of Allah (ﷺ) recited this Ayah upon the Minbar: And make ready against them all you can of power (8:60). He said: "Verily! Power is shooting" - three times - "Verily! Allah will open the earth for you and suffice you with supplies, so let none of you forsake practicing with his arrows
الترجمة الأردية
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر آیت: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ”تم کافروں کے مقابلے کے لیے جتنی قوت فراہم کر سکتے ہو کرو“ ( الانفال: ۶۰ ) پڑھی، اور فرمایا: «قوة» سے مراد تیر اندازی ہے۔ آپ نے یہ بات تین بار کہی، سنو عنقریب اللہ تمہیں زمین پر فتح دیدے گا۔ اور تمہیں مستغنی اور بے نیاز کر دے گا۔ تو ایسا ہرگز نہ ہو کہ تم میں سے کوئی بھی ( نیزہ بازی اور ) تیر اندازی سے عاجز و غافل ہو جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بعض نے یہ حدیث اسامہ بن زید سے روایت کی ہے اور اسامہ نے صالح بن کیسان سے روایت کی ہے، ۲- ابواسامہ نے اور کئی لوگوں نے اسے عقبہ بن عامر سے روایت کیا ہے، ۳- وکیع کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۴- صالح بن کیسان کی ملاقات عقبہ بن عامر سے نہیں ہے، ہاں ان کی ملاقات ابن عمر سے ہے۔
‹ السابق137 / 424التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا