العربية English اردو Français Español Deutsch Русский 中文
اكتشف الإسلامDiscover Islam

الرئيسية / مكتبة الحديث / جامع الترمذي / كتاب فضائل القرآن / الحديث 2911

جامع الترمذي

الحديث 2911 — كتاب فضائل القرآن

الكتاب 45 · Chapters on The Virtues of the Qur'an

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ عَلَى رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلاَتِهِ وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي الْقُرْآنَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَبَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَتَرَكَهُ فِي آخِرِ أَمْرِهِ ‏. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلٌ ‏
ضعيف · Ahmad Muhammad Shakirضعيف · Al-Albaniضعيف · Zubair Ali Zai

جامع الترمذي › كتاب فضائل القرآن › الحديث 2911

الترجمة الإنجليزية
Narrated Zaid bin Artah:narrated from Abu Umamah, that he Prophet (ﷺ) said: "Allah does not listen to anything more virtuous from the worshiper than the two Rak'ah of Salat he performs. And the righteousness spreads over the head of a worshiper as long as he remains in his Salat. And the worshipers shall not draw nearer to Allah, Mighty and Sublime is He, with similar to what came from Him
الترجمة الأردية
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بندے کی کوئی بات اتنی زیادہ توجہ اور ہمہ تن گوش ہو کر نہیں سنتا جتنی دو رکعتیں پڑھنے والے بندے کی سنتا ہے، اور بندہ جب تک نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے، اور بندے اللہ عزوجل سے ( کسی چیز سے ) اتنا قریب نہیں ہوتے جتنا اس چیز سے جو اس کی ذات سے نکلی ہے“، ابونضر کہتے ہیں: آپ اس قول سے قرآن مراد لیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- بکر بن خنیس کے بارے میں ابن مبارک نے کلام کیا ہے اور آخر امر یعنی بعد میں ( ان کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ) ان سے روایت کرنی چھوڑ دی تھی، ۳- یہ حدیث زید بن ارطاۃ کے واسطہ سے جبیر بن نفیر سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے۔
‹ السابق37 / 52التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا