الرئيسية / مكتبة الحديث / جامع الترمذي / كتاب القدر / الحديث 2135
جامع الترمذي
الحديث 2135 — كتاب القدر
الكتاب 32 · Chapters On Al-Qadar
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ أَمْرٌ مُبْتَدَعٌ أَوْ مُبْتَدَأٌ أَوْ فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ فَقَالَ " فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَكُلٌّ مُيَسَّرٌ أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ وَأَنَسٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
صحيح · Ahmad Muhammad Shakirصحيح · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad Maaroufحسن · Zubair Ali Zai
جامع الترمذي › كتاب القدر › الحديث 2135
الترجمة الإنجليزية
Asim bin 'Ubaidullah said:' I heard Salim bin 'Abdullah narrating a Hadith from his father who said: "'Umar said : "O Messenger of Allah! Do you see that what we do is a new matter- or a matter initiated – or it is a matter already concluded?” He (s.a.w) said: “ O Ibn Al-Khattab! It is a matter already concluded. For everyone is suited (for that for which he is created). As for one who is among the people of happiness, then he works for happiness, and as for the one who is among the people of misery, then he works for his misery.” (Hasan)
الترجمة الأردية
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو عمل ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، وہ نیا شروع ہونے والا امر ہے یا ایسا امر ہے جس سے فراغت ہو چکی ہے؟ ۱؎ آپ نے فرمایا: ”ابن خطاب! وہ ایسا امر ہے جس سے فراغت ہو چکی ہے، اور ہر آدمی کے لیے وہ امر آسان کر دیا گیا ہے ( جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ) ، چنانچہ جو آدمی سعادت مندوں میں سے ہے وہ سعادت والا کام کرتا ہے اور جو بدبختوں میں سے ہے وہ بدبختی والا کام کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، حذیفہ بن اسید، انس اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔