العربية English اردو Français Español Deutsch Русский 中文
اكتشف الإسلامDiscover Islam

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن النسائي / كتاب السهو / الحديث 1243

سنن النسائي

الحديث 1243 — كتاب السهو

الكتاب 13 · The Book of Forgetfulness (In Prayer)

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُجَالِدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ، - يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةً فَزَادَ فِيهَا أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ قُلْنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ قَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي فَعَلَ فَثَنَى رِجْلَهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ ‏"‏ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ لأَنْبَأْتُكُمْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ شَيْئًا فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ صَوَابٌ ثُمَّ يُسَلِّمْ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ ‏"‏ ‏.‏
صحيح · Abu Ghuddahصحيح · Al-AlbaniSahih Muslim · Zubair Ali Zai

سنن النسائي › كتاب السهو › الحديث 1243

الترجمة الإنجليزية
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) prayed and did more or less (rak'ahs). When he had said the salam we said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), has there been some change concerning the prayer?' He said: 'Why are you asking?' So we told him what he had done. He turned back toward the Qiblah and prostrated two prostrations of forgetfulness, then he turned to face us and said: 'If there had been some change concerning the prayer I would have told you.' Then he said: 'Rather I am a human being and I forget as you forget. If any one of you is not sure about his prayer, let him estimate what he thinks is correct, and complete his prayer on that basis, then say the taslim and prostrate two prostrations of forgetfulness
الترجمة الأردية
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے اس میں کچھ بڑھا، یا گھٹا دیا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم نے پوچھا: اللہ کے نبی! کیا نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ تو ہم نے آپ سے اس چیز کا ذکر کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، تو آپ نے اپنا پاؤں موڑا، قبلہ رخ ہوئے، اور سہو کے دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اگر نماز کے متعلق کوئی نئی چیز ہوتی تو میں تمہیں اس کی خبر دیتا ، پھر فرمایا: میں انسان ہی تو ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، میں بھی بھولتا ہوں، لہٰذا تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی شک ہو جائے تو غور و فکر کرے، اور اس چیز کا قصد کرے جس کو وہ درست سمجھ رہا ہو، پھر وہ سلام پھیرے، پھر سہو کے دو سجدے کرے ۔
‹ السابق65 / 188التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا