الرئيسية / مكتبة الحديث / صحيح البخاري / كتاب تفسير النبي ﷺ / الحديث 4951
صحيح البخاري
الحديث 4951 — كتاب تفسير النبي ﷺ
الكتاب 65 · Prophetic Commentary on the Qur'an (Tafseer of the Prophet (pbuh))
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا الْبَجَلِيَّ، قَالَتِ امْرَأَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أُرَى صَاحِبَكَ إِلاَّ أَبْطَأَكَ. فَنَزَلَتْ {مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى}
صحيح البخاري › كتاب تفسير النبي ﷺ › الحديث 4951
الترجمة الإنجليزية
Narrated Jundub Al-Bajali:A lady said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I see that your friend has delayed. (in conveying Qur'an) to you." So there was revealed: 'Your Lord (O Muhammad) has neither forsaken you, not hated you
الترجمة الأردية
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر غندر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے اسود بن قیس نے بیان کیا کہ میں نے جندب بجلی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک عورت ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں دیکھتی ہوں کہ آپ کے دوست ( جبرائیل علیہ السلام ) آپ کے پاس آنے میں دیر کرتے ہیں۔ اس پر آیت نازل ہوئی «ما ودعك ربك وما قلى» یعنی ”آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ آپ سے وہ بیزار ہوا ہے۔“