العربية English اردو Français Español Deutsch Русский 中文
اكتشف الإسلامDiscover Islam

الرئيسية / مكتبة الحديث / صحيح البخاري / كتاب تفسير النبي ﷺ / الحديث 4519

صحيح البخاري

الحديث 4519 — كتاب تفسير النبي ﷺ

الكتاب 65 · Prophetic Commentary on the Qur'an (Tafseer of the Prophet (pbuh))

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَتْ عُكَاظٌ وَمَجَنَّةُ وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَأَثَّمُوا أَنْ يَتَّجِرُوا فِي الْمَوَاسِمِ فَنَزَلَتْ ‏{‏لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّكُمْ‏}‏ فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ‏.‏

صحيح البخاري › كتاب تفسير النبي ﷺ › الحديث 4519

الترجمة الإنجليزية
Narrated Ibn `Abbas:`Ukaz, Mijanna and Dhul-Majaz were markets during the Pre-islamic Period. They (i.e. Muslims) considered it a sin to trade there during the Hajj time (i.e. season), so this Verse was revealed:-- "There is no harm for you if you seek of the Bounty of your Lord during the Hajj season
الترجمة الأردية
مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن عیینہ نے خبر دی، انہیں عمرو نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کے بازار ( میلے ) تھے، اس لیے ( اسلام کے بعد ) موسم حج میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہاں کاروبار کو برا سمجھا تو آیت نازل ہوئی «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم‏» کہ ”تمہیں اس بارے میں کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے پروردگار کے یہاں سے تلاش معاش کرو۔“ یعنی موسم حج میں تجارت کے لیے مذکورہ منڈیوں میں جاؤ۔
‹ السابق44 / 499التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا