الرئيسية / مكتبة الحديث / صحيح البخاري / كتاب مناقب النبي ﷺ / الحديث 3603
صحيح البخاري
الحديث 3603 — كتاب مناقب النبي ﷺ
الكتاب 61 · Virtues and Merits of the Prophet (pbuh) and his Companions
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَتَكُونُ أَثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ " تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ، وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ ".
صحيح البخاري › كتاب مناقب النبي ﷺ › الحديث 3603
الترجمة الإنجليزية
Narrated Ibn Mas`ud:The Prophet (ﷺ) said, "Soon others will be preferred to you, and there will be things which you will not like." The companions of the Prophet (ﷺ) asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you order us to do (in this case)? " He said, "(I order you) to give the rights that are on you and to ask your rights from Allah
الترجمة الأردية
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں زید بن وہب نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم پر دوسروں کو مقدم کیا جائے گا اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی جن کو تم برا سمجھو گے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو حقوق تم پر دوسروں کے واجب ہوں انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق اللہ ہی سے مانگنا۔ ( یعنی صبر کرنا اور اپنا حق لینے کے لیے خلیفہ اور حاکم وقت سے بغاوت نہ کرنا ) ۔