العربية English اردو Français Español Deutsch Русский 中文
اكتشف الإسلامDiscover Islam

الرئيسية / مكتبة الحديث / صحيح البخاري / كتاب السهو / الحديث 1235

صحيح البخاري

الحديث 1235 — كتاب السهو

الكتاب 22 · Forgetfulness in Prayer

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ وَهِيَ تُصَلِّي قَائِمَةً وَالنَّاسُ قِيَامٌ فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ‏.‏ فَقُلْتُ آيَةٌ‏.‏ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا أَىْ نَعَمْ‏.‏

صحيح البخاري › كتاب السهو › الحديث 1235

الترجمة الإنجليزية
Narrated Asma':I went to `Aisha and she was standing praying and the people, too, were standing (praying). So I said, "What is the matter with the people?" She beckoned with her head towards the sky. I said, "(Is there) a sign?" She nodded intending to say, "Yes
الترجمة الأردية
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی۔ اس وقت وہ کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں۔ لوگ بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہوئی؟ تو انہوں نے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشانی ہے؟ تو انہوں نے اپنے سر کے اشارے سے کہا کہ ہاں۔
‹ السابق13 / 14التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا