العربية English اردو Français Español Deutsch Русский 中文
اكتشف الإسلامDiscover Islam

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن أبي داود / كتاب الجنائز / الحديث 3142

سنن أبي داود

الحديث 3142 — كتاب الجنائز

الكتاب 21 · Funerals (Kitab Al-Jana'iz)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - الْمَعْنَى - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ فَقَالَ ‏"‏ اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ - إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ - بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ فَقَالَ ‏"‏ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَنْ مَالِكٍ يَعْنِي إِزَارَهُ وَلَمْ يَقُلْ مُسَدَّدٌ دَخَلَ عَلَيْنَا ‏.‏
صحيح · Al-Albaniصحيح · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih Bukhari (1253) Sahih Muslim (939) · Zubair Ali Zai

سنن أبي داود › كتاب الجنائز › الحديث 3142

الترجمة الإنجليزية
Narrated Umm 'Atiyyah : The Messenger of Allah (ﷺ) came in when his daughter died, and he said: Wash her with water and lotus leaves three or five times or more than that if you think fit, and put camphor, or some camphor in the last washing, then inform me when you finish. When we had finished we informed him, and he threw us his lower garment saying: Put it next to her body. Malik's version has: that is, his lower garment (izar); and Musaddad did not say: He entered in
الترجمة الأردية
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ( زینب رضی اللہ عنہا ) کا انتقال ہوا آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: تم انہیں تین بار، یا پانچ بار پانی اور بیر کی پتی سے غسل دینا، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھنا اور آخری بار کافور ملا لینا، اور جب غسل دے کر فارغ ہونا، مجھے اطلاع دینا، تو جب ہم غسل دے کر فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی، آپ نے ہمیں اپنا تہہ بند دیا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو ۔ قعنبی کی روایت میں خالک سے مروی ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازار کو۔ مسدد کی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمارے پاس آنے کا ذکر نہیں ہے۔
‹ السابق54 / 153التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا